سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 128

۱۲۸ میں پائی جاتی ہیں۔مجھے چاہئے تھا کہ میں عورتوں کے جلسہ میں یہ تقریر کرتا مگر اتفاقاً مردوں کا جلسہ آگیا۔اس لئے میں مردوں کے جلسہ میں یہ تقریر کرتے ہوئے انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی عورتوں کو سمجھاؤ اور انہیں کہو کہ تم کو بھی عیسائی عورتوں کی طرح قربانی پیش کرنی چاہئے۔جیسا کہ میں نے مثال دی ہے کہ عورت کو مار دیا گیا اور اس کے گوشت کے کباب بنا کر کھائے گئے۔مگر اس کے قائمقام کے لئے اعلان کیا گیا، تو شام تک ہیں ہزار عورتوں نے اپنا نام پیش کر دیا۔کہ وہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو سمجھائیں کہ تم بھی اپنے اندر اسی قسم کا اخلاص اور ایمان پیدا کرو۔کل بیماری کی وجہ سے مجھ سے ایک غلطی ہو گئی اور وہ یہ کہ مجھے کل کے خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کے نئے سال کی مالی قربانیوں کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔مگر اس کا اعلان کرنا بھول گیا۔سو آج میں نئے سال کے چندہ تحریک جدید کا اعلان کرتا ہوں اور دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ غیر ممالک میں اسلام کی اشاعت کا واحد ذریعہ ہمارے پاس تحریک جدید ہی ہے۔میں نوجوانوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کریں اور اپنے آپ کو دینی تعلیم حاصل کر کے اس قابل بنائیں کہ انہیں غیر ملکوں میں بھیجا جاسکے اور جماعت کو میں تحریک کرتا ہوں کہ اگر ہمارے مبلغ بڑھتے گئے اور مسجد میں بڑھتی گئیں تو ہمارا خرچ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ایک مسجد پر دولاکھ روپیہ خرچ آتا ہے اور میری سیکم ۵۰ ہزار مسجد بنانے کی ہے تم یہ نہ مجھو کہ ہماری جماعت غریب ہے۔میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے جس سے خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دلائی ہے کہ یہ غربت عارضی ہے اور ایسے سامان پیدا ہونے والے ہیں کہ جن کے نتیجہ میں جماعت کو خدا تعالیٰ بہت کچھ مال دے گا۔میں نے خواب میں دیکھا کہ زمینداروں کا ایک بہت بڑا گر وہ ہے۔وہ زمیندار ایسے ہیں جو مر بعوں کے مالک ہیں۔وہ راجہ علی محمد صاحب کے پاس آئے اور ان سے انہوں نے مصافحہ کیا۔اور پھر ایک طرف چلے گئے۔میں ان کو دیکھ کر