سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 5

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت ورسالت میں شامل ہوئی تھی۔یہ وجہ ہے کہ اس دعا کے نتیجہ میں چونکہ ایک ایسا رسول آنا مقدر تھا۔جس نے بار بار اپنے اظلال کے ذریعہ دنیا میں آنا تھا۔اس لئے رُسُلاً کہنے کی ضرورت نہ تھی۔بلکہ رَسُؤلا ہی کہنا چاہئے تھا۔تو اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوابِهِمُ میں اس اعتراض کا جواب دے دیا گیا ہے کہ جہاں انہوں نے اپنی اولاد کے متعلق عام دعا کی۔وہاں تو ان میں بار بار رسول اور امام بھیجنے کی التجا کی۔مگر جہاں مکہ والوں کے متعلق خاص طور پر دعا کی تو وہاں صرف ایک رسول بھیجنے کی دعا کردی۔اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ بے شک مکہ والوں کے متعلق انہوں نے بھی دعا کی تھی کہ ان میں ایک رسول آئے۔مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول ایسا کامل تھا کہ اس پر اس قسم کی موت آہی نہیں سکتی تھی کہ اس کی تعلیم کا اثر لوگوں کی طبائع پر سے کلیہ جاتا رہے۔بلکہ مقدر یہ تھا کہ جب طبعی طور پر یہ اثر جاتا رہے گا۔خدا اسی رسول کو دوبارہ مبعوث کر دے گا اور چونکہ اس رسول نے اپنے متبع اظلال کے ذریعہ بار بار دنیا میں آنا تھا۔اس لئے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو بہت سے رسول مانگنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔غرض اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے جب یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْهُم تو اس رَسُولاً مِنْهُمُ سے مراد خاتم النبین تھا اور چونکہ خاتم النبین کی نبوت میں بعد میں آنے والے تمام نبیوں اور رسولوں کی نبوت شامل تھی۔اس لئے یہ ضرورت ہی نہ تھی کہ رَسُولاً منهم کی بجائے رُسُلا منھم کہا جاتا۔پس ہمیں اس آیت سے یہ نکتہ معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اپنی ذات میں ہی بعد میں آنے والے رسولوں اور اماموں کی خبر دیتی تھی۔آپ کے علاوہ دنیا میں اور کوئی ایسا رسول نہیں جو اپنی ذات میں آنے والے انبیاء کی خبر دیتا ہو۔موسیٰ" کا نفس اپنی ذات میں منفرد تھا۔داؤد کا نفس اپنی ذات میں منفر د تھا۔اسی طرح اور انبیاء کے نفوس اپنی اپنی ذات میں منفرد تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء آئے مگر وہ ان کے ظل نہیں تھے بلکہ تابع تھے۔عیسی ، موسیٰ" کے ظل ان معنوں میں نہیں تھے ، جن معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظل ہیں۔یوں تو ظل پہلوں کے بھی ہوتے رہے ہیں۔مگر اس ظلیت کے معنے صرف مشابہت کے ہوا کرتے تھے۔جیسے حضرت عیسی الیاس کے ظل تھے۔مگر فل کے یہ معنی نہیں تھے کہ وہ الیاس کے ماتحت تھے وہاں ایک تابع ہوسکتا تھا جو ل نہ ہو اور ایک ظل ہوسکتا تھا جو تابع نہ ہو۔عیسیٰ