سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 70

آج اسلام کی ترقی کے لئے ہم جتنی کیفیت میں ترقی کریں گے۔تقویٰ، نیکی ، دیانتداری، راستبازی اور عدل و انصاف میں ترقی کریں گے۔اتنی ہی دنیا کی دعائیں ہمارے حق میں بڑھتی جائیں گی اور خدا تعالیٰ کے عرش سے فضل کو ہمارے لئے کھینچیں گی لیکن اگر یہ دعا ئیں ہمارے لئے نہ ہونگی۔تو نہ زمین سے ہماری ترقی کے سامان ہوں گے نہ آسمان سے۔دوسری طرف کمیت میں ترقی بھی ضروری ہے۔اگر ہم تعداد میں ترقی نہ کریں تو بھی دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے عظیم الشان انسان تھے۔لیکن اگر آپ غار حرا میں ہی ساری عمر دعائیں کرتے کرتے فوت ہو جاتے تو آپ کی جڑوں سے ابو بکر، عمر، عثمان علی اور طلحہ زبیر جیسے لوگ کبھی نہ پیدا ہو سکتے اور اس صورت میں دنیا آپ کی برکات سے کس طرح حصہ لے سکتی۔آپ کی ذات میں بے شمار خوبیاں تھیں۔مگر آپ کی مثال ایک جڑ تھی اور اس جڑ کے خوشبو دار پھول ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی وغیرہ تھے۔اگر اس جڑ سے یہ خوشبودار پھول پیدا نہ ہوتے تو دنیا اس سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکتی۔آم کتنا اچھا پھل ہے لیکن اگر دنیا میں ایک ہی پھل ہوتا تو دنیا اس سے کیا فائدہ اٹھا سکتی۔مشک اور عبر وغیرہ کتنی مفید چیزیں ہیں لیکن اگر دنیا میں ایک دو ہرن ہی ایسے ہوتے جن سے مشک حاصل ہو سکتا۔یا ایک دو مچھلیاں ہوتیں جن سے عنبر حاصل ہوتا تو سوائے ایک دو بڑے بڑے بادشاہوں کے کوئی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔جب تک کوئی مفید اور اچھی چیز عام لوگوں کو میسر نہ آسکے اس کی اچھائی کسی کام کی نہیں۔گندم، چاول اور گوشت کتنی اچھی چیزیں ہیں لیکن اگر دنیا میں صرف دو چار بکرے ہوتے ، اگر دو چار من ہی گندم یا چاول دنیا میں ہوتے تو لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکتے۔ان کی کثرت ہی ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتی ہے۔اگر کثرت نہ ہوتی تو خوبی اندر ہی اندر مرجاتی۔اسی طرح جب تک کسی جماعت کی تعداد نہیں بڑھتی۔وہ دنیا کو نفع نہیں پہنچا سکتی۔دنیا کو نفع پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ تعداد بڑھے۔قرآن کریم نے کلمہ کی مثال اس درخت سے دی