سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 55
۵۵ مہلک طور پر زخمی ہو چکا تھا۔یہ کیا چیز تھی جس نے ان لوگوں میں اتنی جرات پیدا کر دی تھی۔یہ ایمان بالغیب ہی تھا۔جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ہر وقت قربانیوں کی آگ میں جھونکنے کے لئے تیار رہتے تھے اور یہ ایمان بالغیب ہی تھا کہ جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہو چکا تھا کہ دنیا کی نجات اسلام میں ہی ہے اور خواہ کچھ ہو ہم اسلام کو دنیا میں غالب کر کے رہیں گے۔پس مجلس انصاراللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کا کام یہ ہے کہ جماعت میں تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان بالغیب ہے۔انہیں اللہ تعالیٰ، ملائکہ، قیامت رسولوں اور ان شاندار عظیم الشان نتائج پر جو آئندہ نکلنے والے ہیں، ایمان پیدا کرنا چاہئے۔انسان کے اندر بزدلی اور نفاق وغیرہ اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل میں ایمان بالغیب نہ ہو۔اس صورت میں انسان سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے یہ بھی اگر چلا گیا تو پھر کچھ نہ رہے گا اور اس لئے وہ قربانی کرنے سے ڈرتا ہے۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے ایک معنے امن دینا بھی ہے۔یعنی جب قوم کا کوئی فرد باہر جاتا ہے تو اس کے دل میں یہ اطمینان ہونا ضروری ہے کہ اس کے بھائی اس کے بیوی بچوں کو امن دیں گے۔کوئی قوم جہاد نہیں کر سکتی ، جب تک اسے یہ یقین نہ ہو کہ اس کے پیچھے رہنے والے بھائی دیانت دار ہیں۔پس ان تینوں مجلسوں کا ایک یہ بھی کام ہے کہ جماعت کے اندر ایسی امن کی روح پیدا کریں۔ان تینوں مجالس کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایمان بالغیب ایک میخ کی طرح ہر احمدی کے دل میں اس طرح گڑ جائے کہ اس کا ہر خیال، ہر قول اور ہر عمل اس کے تابع ہو اور یہ ایمان قرآن کریم کے علم کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔جولوگ فلسفیوں کی جھوٹی اور پُر فریب باتوں سے متاثر ہوں اور قرآن کریم کا علم حاصل کرنے سے غافل رہیں، وہ ہرگز کوئی کام نہیں کر سکتے۔پس مجالس انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ کا یہ فرض ہے اور ان کی یہ پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ یہ باتیں قوم کے اندر پیدا کریں اور ہر ممکن ذریعہ سے اس کے لئے کوشش کرتے رہیں۔لیکچروں کے ذریعہ، اسباق کے ذریعہ، اور بار بار امتحان لیکر ان باتوں کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو بار بار پڑھایا جائے ، یہاں تک ہر مرد عورت اور ہر چھوٹے بڑے کے دل میں ایمان بالغیب پیدا ہو جائے۔دوسری ضروری چیز