سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 197

۱۹۷ ان کی آمد ساڑھے پینتالیس کروڑ روپیہ سالانہ ہو جاتی ہے۔اگر وہ اس کا چھ فی صدی چندہ دیں، تو جماعت کا چندہ دو کروڑ ستر لاکھ بن جاتا ہے اور اگر دس فیصدی دیں تو جماعت کا چندہ چار کروڑ پچاس لاکھ روپیہ سالانہ بن جاتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے۔گو جماعت کے دوست تبلیغ میں سستی کرتے ہیں لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے لوگوں کے کانوں میں احمدیت کی تعلیم ڈالتے رہتے ہیں اور وہ کھنچے ہوئے احمدیت کی طرف آجاتے ہیں۔اگر ہمارے زمیندار محنت کریں تو خود بھی انہیں فائدہ ہوگا یعنی ان کی مالی حالت بہتر ہوگی اور ان کے بچے تعلیم پائیں گے اور ساتھ ہی تبلیغ بھی ہوگی اور وہ کنتم خیرامۃ میں داخل ہو جائیں گے اور ان کا نام خدا تعالیٰ کے حضور پہلے نمبر پر لکھا جائے گا۔دیکھو اگر تم زیادہ نمازیں پڑھو گے تو اس کا ثواب صرف تمہارے حساب میں لکھا جائے گا لیکن اگر تم زیادہ تبلیغ کرو گے تو ساری دنیا اس سے فائدہ اٹھائے گی اور ساری دنیا کے ثواب میں تم شریک ہو جاؤ گے۔( اقتباس از جمعه فرموده ۲۶ را کتوبر۱۹۵۶ء۔بحوالہ الفضل ۶ - نومبر ۱۹۵۶ء صفحہ ۴ کالم۲)