سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 178

KZA ہوئی ، چالیس سے زیادہ بیعت کرنے والے تھے۔پس اس وقت تک ہماری کامیابی میں جو کمی ہے وہ قربانی کی ہے نہ کہ طاقت کی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ابتدا میں لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے استادوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جوں جوں استاد تیار ہوتے جاتے ہیں ، لوگوں کو اس جماعت میں لایا جاتا ہے۔ہمارے پاس بھی جب تمام دنیا کو تعلیم دینے اور اس کی تربیت کرنے کے لئے استاد پیدا ہو جائیں گے تو تلامذہ کثرت سے آنے لگیں گے۔یہ بھی ایک وجہ اس وقت تک عظیم الشان کامیابی نہ ہونے کی ہے۔مگر اس وجہ سے، اس وجہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ابھی تک پوری اور مکمل قربانی نہیں کی جارہی۔اس وقت شمس صاحب نے میری ایک تحریک کا ذکر کیا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کا وقت وہی ہوسکتا ہے جب کہ جماعت کی اکثریت اپنی جائیدادیں وقف کر دے گی۔مگر افسوس کہ یہ تحریک ایک حد تک جا کر رکی ہوئی ہے اور کارکنوں نے اسے جاری رکھنا ضروری نہیں سمجھا۔اب تک ایک کروڑ ۳۵ لاکھ روپے کی جائیدادیں وقف ہو چکی ہیں اور اگر ساری جماعت اس تحریک میں حصہ لے تو میرا اندازہ ہے کہ دس کروڑ سے بیس کروڑ تک کی جائیدادیں وقف ہو سکتی ہیں اور اگر کم از کم اندازہ دس کروڑ بھی ہو اور ۱/۲ فیصدی ہم خرچ کریں تو اس سے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے اور تبلیغ کے کام کو اتنا بڑھایا جاسکتا ہے کہ لاکھوں لاکھ انسانوں تک آواز پہنچ جائے۔اسی طرح موجودہ مبلغین کے لئے بے حد اخراجات کی ضرورت ہے اور خرچ کی تنگی کی وجہ سے کام وسیع نہیں کیا جاسکتا۔وقف جائیداد کی ایک ایسی تحریک ہے کہ کسی کا کچھ خرچ نہیں ہوتا مگر کام بہت بڑا ہو سکتا ہے۔میں نے بتا دیا ہے کہ ہم جائیدادیں نہ لیں گے بلکہ مالکوں کے پاس ہی رہنے دیں گے اور ایسے طور پر کام چلا ئیں گے کہ عظیم الشان نتائج نکلنے شروع ہو جائیں گے۔مگر افسوس کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔قادیان میں شاید پانچ فیصدی نے اپنی جائیدادیں وقف کی ہیں۔میرا اندازہ ہے کہ قادیان میں احمدیوں کی جائیداد میں ایک