سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 40
72 71 حضرت سعد کی وفات اور سیرت حضرت سعد کو ایک لمبا عرصہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کیساتھ مل کر خدمات کی توفیق ملتی رہی۔پھر خلافت راشدہ کے دوران بھی انہیں مقدور بھر خدمات کی سعادت نصیب ہوئی اور کسری فارس کا پایہ تخت مدائین ان کے ہاتھوں پر فتح ہوا۔فارسیوں میں دعوت الی اللہ اور نومسلموں کی تعلیم و تربیت کا بھی انہیں موقع ملا۔ایک لمبا عرصہ مجاہدانہ زندگی گزارنے کے بعد زندگی کے آخری کئی سال انہوں نے گوشہ نشینی میں رہ کر زاہدانہ زندگی کو ترجیح دی اور مسلسل عبادات اور دعاؤں میں مصروف رہے۔بالاخر سنہ 55ھ میں تقریباً 87 سال کی عمر میں انہوں نے تحقیق میں اپنے گھر قصر سعد میں وفات پائی وفات کے وقت ان کا سر ان کے بیٹے مصعب بن سعد کی گود میں تھا۔اور انکی زبان پر سورۃ الفجر کی یہ آیات تھیں۔يآيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر 31:28) ”اے نفس مطمئن اپنے رب کی طرف لوٹ آ میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا“۔خدا کی عجیب شان ہے کہ آنحضرت علی انہیں پہلے ہی ان دس صحابہ میں شامل فرما چکے تھے۔جو عشرہ مبشرہ کہلاتے ہیں اور جنہیں آنحضرت نے بطور خاص جنت کی بشارت دی تھی۔انہوں نے اپنی وفات سے پہلے وہ جبہ منگوایا جو بدر کے موقع پر پہنا تھا انہوں نے اپنے بچوں کو وصیت کی کہ مجھے یہ جبہ پہنا کر دفن کرنا اور محمد رسول اللہ کی طرح لحد والی قبر بنا کر دفن کرنا۔ازواج مطھرات کی خواہش پر ان کا جنازہ ان کے گھر سے اٹھا کر مسجد نبوی ﷺ میں لایا گیا۔مدینہ کے گورنر ( والی ) مروان بن حکم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ازواج مطھرات بھی ان کے جنازے میں شامل ہوئیں اور و ہزاروں مسلمانوں کو ان کا جنازہ پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت سعد بن ابی وقاص کو مدینہ کے قطعہ خاص ”جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔سیرت نگاروں نے حضرت سعد کی سیرت، عبادات، عشق رسول خدمت قرآن، قبولیت دعا‘ شجاعت، صبر و حمل ایثار خدمت خلق، زہد و تقویٰ اور سادگی کو بطور خاص شامل کیا ہے۔لیکن ان کی مجاہدانہ زندگی والا حصہ ان سب اوصاف پر حاوی ہے۔جیسا کہ حضرت سعد کے ایک پوتے اسماعیل بن محمد بن سعد بیان کرتے ہیں:۔ہیں:۔کہ میرے والد ہم سب کو مغازی اور سرایا کی تعلیم دیا کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ تمہارے آباؤ اجداد کے قابل فخر کارنامے ہیں۔پس ان کے تذکروں اور یاد گاروں کو فراموش نہ کرنا۔محمد رسول الله علی از شیخ محمد رضا قاہرہ صفحہ 308) ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے