سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 38 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 38

68 67 کوفہ سے واپسی اور عقیق میں مستقل قیام سنہ 26ھ میں حضرت عثمان نے مجھے کوفہ سے واپس مدینہ بلوالیا اور میری جگہ ولید بن عقبہ کو گورنر مقرر کر دیا عرب گورنر کو والی کہا کرتے تھے۔میری عمر اب 65 سال سے تجاوز کر چکی تھی میں نے ارادہ کیا کہ باقی زندگی کے دن عبادت اور دعاؤں میں گزاروں۔مجھے معقول رقم بطور وظیفہ (پنشن) ملنے لگی۔عراق کی مہمات میں مال غنیمت کے طور پر بھی جو رقم ملی وہ زکوۃ وغیرہ صلى الله نکال کر میری آئندہ زندگی گزارنے کے لئے کافی تھی۔مدینہ سے دس میل دور مدینہ اور فرع کے درمیان وادی عقیق ہے۔مدینہ کے اطراف میں جتنی بھی آبادیاں ہیں ان میں سے عقیق کے کنوؤں کا پانی سب سے میٹھا ہے وہاں پر حضرت رسول اللہ علیہ نے خود مجھے زمین کا ایک قطعہ دے رکھا تھا۔میں نے اس پر مکان بنوایا اور وہیں رہنے لگا۔وہیں پر میں تھوڑا بہت کھیتی باڑی کا کام بھی کرتا تھا۔میں زیادہ وقت عبادت اور دعاؤں میں گذارتا اور ملک کی سیاست سے پوری طرح الگ ہو گیا اس دوران عالم اسلام میں کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن میں نے کسی میں دخل نہ دیا۔حضرت عثمان بارہ سال خلیفہ رہے۔آپ کے عہد خلافت کا آخری نصف دور مسلمانوں میں اختلافات کا دور تھا۔یہودیوں کی ایک گہری سازش خلافت اور مرکزیت کو ختم کرنا چاہتی تھی۔اسی سازش کے نتیجہ میں حضرت عثمان کی شہادت ہوئی۔آپ 18 ذو الحجہ سنہ 35ھ (21 مئی 656ء) کو شہید ہوئے۔اس فتنے کا بانی ایک یہودی عبداللہ بن سبا تھا۔جو اوپر سے مسلمان اور اندر سے یہودی تھا اس نے اپنے ساتھیوں کا جال سارے عالم اسلام میں پھیلا کر اسلام کو بہت نقصان پہنچایا حتی کہ اس کے ساتھیوں اور باغیوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔میں نے مدینہ جا کر انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور ان لوگوں سے مایوس ہوکر میں واپس آ گیا۔//////