سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 14 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 14

20 19 صلى الله قافلہ لے کر پہلے ہی وہاں سے گذر چکا تھا۔دراصل آپ ﷺہ اس قافلے کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے وہاں تشریف لے گئے تھے۔اس مہم سے واپس آئے ہوئے دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ قریش مکہ کے ایک دستے نے مدینہ سے تین میل باہر ایک چراگاہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کے اونٹ لوٹ لئے۔حضور عے ان کے تعاقب میں بدر کے پاس سفوان تک گئے۔زیادہ قریب سے قریش کا جائزہ لینے کے لئے آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن جحش کو آٹھ مہاجرین کا ایک دستہ دے کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر بھیجا۔اس مہم کے دوران میرے اور عتبہ بن غزوان کے اونٹ بچھڑ گئے اور اونٹوں کی تلاش میں ہم قافلے سے بچھڑ نخلہ پہنچ کر عبداللہ بن جحش نے قریش کے ایک قافلے پر حملہ کر دیا۔قریش کا ایک آدمی مارا گیا اور دو قید کر لئے گئے۔عبداللہ بن جحش جو رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے قیدیوں کو مدینہ لے آئے۔گورسول صلى الله اللہ ﷺ ان سے ناراض ہوئے تاہم ہماری واپسی تک قیدیوں کو مدینہ روکے رکھا۔قید کے دوران ایک قیدی حکم بن کفان آنحضرت ﷺ کے اخلاق سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گیا اور اس نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔اس کے جلد ہی بعد قریش مکہ نے با قاعدہ فوج تیار کر کے مدینہ پر حملوں کا آغاز کر دیا۔اذن جہاد صلى الله غزوات النبی ﷺ میں میری خدمات 12 صفر سنہ 2ھ بمطابق 15 اگست 623 ء کو جب آنحضرت عے کو مکہ میں تیرہ سال تک کفار کے مظالم برداشت کرنے کے بعد مدینہ آئے ہوئے تقریبا ایک ہی سال گذرا ہو گا، آپ ﷺ پر یہ قرآنی وحی نازل ہوئی۔أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ط وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرُ۔(الحج۔40) یعنی وہ لوگ جن سے (بلا وجہ ) جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر قادر ہے۔دشمنوں کے ساتھ مقابلے کی اجازت قریش مکہ کے اس الٹی میٹم کا جواب تھا جو انہوں نے اہل مدینہ کو آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے بعد دیا تھا۔گو مکی دور میں مسلمانوں کو ہر قسم کے مظالم برداشت کرنے پڑے لیکن مدینہ پہنچ کر جو کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔اس سے زیادہ نازک وقت اسلام پر کبھی نہیں آیا تھا کیونکہ اس کمزوری کی حالت میں قریش مکہ اور ہمارے درمیان جنگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔جس کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا گیا۔کفار بار بار مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے ان سے مقابلہ کے لئے آنحضرت صحابہ کو کئی آزمائشوں سے گذرنا پڑا۔ان غزوات کی داستان لمبی ہے۔اس میں سے چند ایک غزوات میں اپنی شمولیت کا مختصر ساذ کر کرتا ہوں۔