سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 37 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 37

66 65 وصال ایسی حالت میں ہوا کہ آپ یہ تم سے راضی تھے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میری وفات کے تین دن کے اندر انتخاب خلافت ہو جائے۔آپ نے فرمایا کہ جو بھی خلیفہ منتخب ہو اس کی سب اطاعت کرنا۔آپ نے وصیت فرمائی کہ اگر سعد خلیفہ منتخب نہ ہوسکیں تو جو بھی خلیفہ منتخب ہو وہ سعد کی خدمات سے فائدہ اٹھائے۔حضرت عمرؓ کا 26 ذوالحجہ سنہ 23 ھ کو وصال ہوا۔آپ دس سال تک منصب خلافت پر فائز رہے۔اس دور میں عالم اسلام کو غیر معمولی ترقیات نصیب ہوئیں۔حضرت عمر کی ہدایت کے مطابق خلافت کمیٹی نے تین دن کے اندر اندر دعا اور باہمی مشورے کے بعد حضرت عثمان کو خلیفہ منتخب کر لیا۔حضرت عثمان 1 محرم سنہ 24ھ (7 نومبر 642ء) خلافت ثالثہ کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے۔عراق میں گورنری کا دوسرا دور حضرت عمرؓ کی وفات کے وقت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے گورنر تھے۔حضرت عثمان نے خلیفہ بن کر مجھے دوبارہ عراق بھجوا دیا اور کوفہ کا گورنر بنا دیا۔اس وقت فارس کے علاقے میں مملکت اسلامیہ کے دو صوبے بن چکے تھے۔عراق کے صوبے کا دارالحکومت کوفہ تھا اور عراق سے آگے ایران اور اس کے مفتوحہ علاقوں کے صوبہ کا دارالحکومت بصرہ تھا۔کوفہ کی حکومت عراق کے تمام علاقوں سے آگے آرمینیا تک پھیلی ہوئی تھی۔بصرہ ایران کی سرحد پر واقع تھا اور بصرہ کی حکومت ایران کے مقبوضات تک پھیلی ہوئی تھی۔حضرت عثمان کے دور خلافت میں ایران کی آخری حدود تک فتوحات پہنچ گئیں۔مغیرہ بن شعبہ کو ہٹا کر حضرت عثمان نے مجھے کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔فارس کے علاقوں میں فتوحات کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔کثرت سے لوگ مسلمان ہو چکے تھے۔ان کی تعلیم و تربیت اور ملک کے استحکام کا کام وسیع پیمانے پر جاری تھا۔مجھے حضرت عثمان کے دور خلافت میں کوفہ کے گورنر کے طور پر تین سال تک خدمت کی توفیق ملی۔