سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 39 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 39

70 0 69 حضرت علی کی بیعت اور گوشہ نشینی حضرت عثمان کی شہادت کے المناک واقعہ کے بعد کچھ لوگوں نے حضرت علی کی بیعت کی۔میں نے بھی مدینہ جا کر بیعت کر لی اور واپس عقیق آ گیا۔یہ زمانہ عالم اسلام میں فتنوں کا زمانہ تھا۔حضرت علی اضطراری حالات میں مدینہ چھوڑ کر کوفہ چلے گئے۔مسلمانوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلوار میں نکال لیں۔گو حضرت علی کی زندگی میں معاویہ نے خلیفہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اس نے شام کے صوبے میں الگ حکومت قائم کر لی جہاں وہ پہلے مدینہ کی حکومت کے ماتحت گورنر تھا۔مصر میں عمرو بن العاص بھی علیحدہ ہو گیا۔الله اس دوران معاویہ اور حضرت علیؓ کے درمیان جنگیں بھی ہو ئیں میرا دامن صلى الله مسلمان کے خون سے پاک رہا۔میں نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ سے سن رکھا تھا کہ حضور ﷺ کے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا جس میں لیٹنے والا بیٹھنے والے سے اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا۔اس لئے میں نے سیاست سے الگ رہ کر گوشہ نشینی کی زندگی کو ترجیح دی۔ایک موقع پر مجھے معلوم ہوا کہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان مصالحت ہو رہی ہے۔مجھے بہت خوش ہوئی میں اس خوشی میں شامل ہونے کے لئے دومۃ الجندل تک گیا لیکن مجھے پتہ چلا کہ مصالحت نہیں ہو سکی مجھے بہت دکھ ہوا اور میں واپس آ گیا۔اس زمانے میں عبادات اور دعاؤں سے فارغ ہو کر میں کچھ کھیتی باڑی کا کام بھی کرتا تھا اور جنگل میں اونٹ بکریاں بھی چراتا تھا۔ایک بار میرا ایک بیٹا عمرو بن سعد میرے پاس آیا اور کہنے لگا ابا جان ! آپ جنگل میں اونٹ بکریاں چراتے ہیں اور لوگ مدینہ میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔میں نے اسے سمجھایا اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور کہا:۔چپ ہو جاؤ! میں نے حضرت محمد رسول اللہ علہ سے سن رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی اور مخفی رہنے والے بندہ سے محبت کرتا ہے۔“ حضرت علی پونے پانچ سال تک خلیفہ رہ کر 20 رمضان سنہ 40 ھ کو شہید کر دئیے گئے۔آپ کی شہادت کے بعد میں نے مکمل گوشہ نشینی اختیار کرلی۔