سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 27
46 45 الله صلى الله علوم سے ہتے تھے۔یہ خط پڑھ کر وہ آگ بگولا ہو گیا اس نے اپنے ماتحت صوبہ یمن کے گورنر باذان کو حکم دیا کہ فوراً اس عربی نبی ﷺ کو اس گستاخی کی وجہ سے گرفتار کر کے اس کے دربار میں پیش کرے۔چنانچہ باذان نے اپنے دو سپاہی آنحضرت ﷺ کے پاس بھیجے انہوں نے مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ۔ملاقات کی اور کہا کہ آپ ﷺ ہمارے ساتھ چلیں ورنہ عظیم کسری فارس آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی قوم اور ملک کو ( نعوذ باللہ ) تباہ کر کے رکھ دے گا۔آپ نے بڑے عمل سے فرمایا کہ میں اس کا کل جواب دوں گا معلوم ہوتا ہے آپ ﷺ نے رات کو اضطراری رنگ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالی نے جو کچھ آپ ﷺ کوعلم غیب سے بتایا اس کی خبر آپ ﷺ نے اگلے دن ان سپاہیوں کو ان الفاظ میں دی۔اپنے گورنر سے جا کر کہد و کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار دیا ہے۔66 (دیباچہ تفسیر القرآن) سپاہیوں نے واپس آ کر سارا ماجرا یمن کے گورنر کو سنایا وہ بہت حیران ہوا۔اس نے کہا یا تو یہ نبی ﷺ سچا ہے ورنہ فارس کی عظیم سلطنت کا مالک کسری جس کا نام خسرو پرویز تھا ان کا نام ونشان مٹا دے گا۔کچھ عرصہ کے بعد فارس کے دار الحکومت سے نئے کسری شیرویہ کا خط ملا جس میں اس نے باذان کو لکھا کہ میں نے اپنے باپ خسرو پرویز کو اس کے ظلموں کی وجہ سے قتل کر دیا ہے۔( یہ واقعہ 19 فروری 628ء کو معرض وجود میں آیا اور خود حکومت سنبھال لی ہے اور میں اپنے باپ کے تمام احکامات منسوخ کرتا ہوں۔نیز اس نے جس عربی نبی ﷺ کی گرفتاری کا حکم دیا تھا اس حکم کو بھی منسوخ کرتا ہوں۔اس پر باذان اور اس کے قبیلے پر اسلام کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی اور وہ اپنے خاندان سمیت مسلمان ہو گیا۔خسرو پرویز کا قتل 10 جمادی الاول سنہ 7 ھ کی نصف شب کے بعد ہوا اور بالکل اسی رات کی خبر آپ ﷺ نے کوسوں میل دور باذان کے سپاہیوں کو دی تھی۔اس کے بعد یمن کا علاقہ اسلامی ریاست میں شامل ہو گیا۔آنحضرت علی نے باذان کو ہی یمن کے علاقوں کا حاکم مقرر کر دیا۔شیرویہ کی حکومت آٹھ ماہ سے زیادہ نہ چل سکی اس نے اپنے باپ کے علاوہ اپنے خاندان کے بہت سارے لوگ قتل کر دیے تھے۔اور خود بھی جلد ہی مر گیا شیرویہ کے بعد عظیم فارس کی حکومت کئی ہاتھوں میں منتقل ہوتی رہی۔