سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 23 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 23

38 37 لئے ان کی تعلیم و تربیت بھی ضروری تھی جس کی مجھے توفیق ملتی رہی۔بنو ہوازن غزوہ حنین کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔یہ وہی قوم ہے جس کے ایک قبیلہ بنو سعد سے آنحضرت ﷺ کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ تھیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف ہے کہ حضور علیہ کی حقیقی والدہ حضرت سیدہ آمنہ کے ساتھ میری قریبی رشتہ داری تھی۔اور حضور ﷺ کی رضاعی والدہ کے قبیلہ بنو ہوازن کی مجھے عملی زندگی میں خدمت کی توفیق ملی۔نجد عرب کے وسط میں واقع نہایت وسیع اور مشہور علاقہ تھا اور کئی چھوٹے چھوٹے علاقوں میں جن میں سے بعض عرب کے شاداب حصوں میں شمار ہوتے تھے منقسم تھا۔رض حضرت ابوبکر کا زمانہ خلافت سوا دو سال تک ممتد رہا اور اس دوران وہ ہمیشہ مجھ سے راضی رہے۔حضرت ابوبکر * 22 جمادی الآخر سنہ 13ھ (22 اگست 634ء) کو فوت ہوئے اور حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔حضرت عمرؓ نے مجھے عراق کی مہم پر سپہ سالار بنا کر بھیجا اور کسری فارس کا پایہ تخت مدائن میرے ہاتھوں فتح ہوا۔اس کے بعد عراق کا نظم و نسق سنبھالنے اور استحکام قائم کرنے کے لئے حضرت عمرؓ نے مجھے عراق کا والی ( گورنر ) بنا دیا۔عراق کی مہم میری زندگی کا سب سے اہم کارنامہ شمار ہوتا ہے اس کی تفصیل اگلے صفحوں پر آپ ملاحظہ کریں گے۔اپنی خلافت کے آخری دنوں میں حضرت عمرؓ نے مجھے واپس مدینہ بلوالیا اور جب ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تو انہوں نے خلیفہ ثالث کے انتخاب کے لئے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تا کہ یہ کمیٹی آپس میں فیصلہ کر کے ان چھ میں سے کسی ایک کوخلیفہ منتخب کرلے اس کمیٹی میں حضرت عمر نے مجھے ย بھی شامل فرمایا۔حضرت عمرؓ کی وفات کے تین دن کے اندر اندر اس کمیٹی نے با ہمی مشورے سے حضرت عثمان کو خلیفہ منتخب کیا۔حضرت عمر کا وصال 26 ذوالحجہ سنہ 23ھ (3 نومبر 642ء) کو ہوا اور حضرت عثمان 1 محرم سنہ 24ھ (7 نومبر 642ء) کو خلیفہ منتخب ہوئے۔حضرت عثمان نے مجھے دوبارہ عراق کا والی ( گورنر ) مقرر کیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس مدینہ بلا کر ریٹائر کر دیا اور میں نے مدینہ کے قریب وادی تحقیق میں رہائش اختیار کر لی اور گوشہ تنہائی میں رہنے لگا۔