سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 22
36 35 رفعت ضرور حاصل کرو گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے کیا بعید ہے کہ وہ تمہیں شفا دیدے اور تم ہمارے ساتھ مدینہ واپس جاؤ اور مختلف اقوام کو تم سے فائدہ پہنچے اور تمہارے مقابل پر آنے والے نقصان اٹھا ئیں اور نا کامی کا منہ دیکھیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی دعا سے مجھے شفا بخشی بعد میں فارس کا دارالحکومت میرے ہاتھوں فتح ہوا۔میں سوچتا ہوں کہ کیسے رسول اکرم علی کی یہ پیشگوئی پوری شان کے ساتھ میرے حق میں پوری ہوئی اور حق تو یہ ہے کہ میری اور ہر ایک مسلمان کی گردن اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے احسان کے نیچے ہے ہمارا اسلام پر کوئی احسان نہیں۔خلافت راشدہ کا قیام اور میری خدمات 12 ربیع الاول سنہ 11ھ ( 5 جون 632ء) کو ایک ایسا واقعہ پیش آ گیا جسے دیکھنے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی تیار نہ تھا۔وہ اس طرح کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ کا اس روز وصال ہو گیا اس سے بڑھ کر مجھے کبھی غم نہیں ہوا جو اس موقع پر ہوا لیکن ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے آگے اپنے سر جھکا دیئے۔خدا تعالیٰ نے خود ہم میں سے ایک شخص کو جو محمد رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا عاشق تھا۔آپ عﷺ کا خلیفہ اور جانشین بنا کر کھڑا کر دیا۔میری مراد حضرت ابوبکر صدیق سے ہے جن کے ذریعے مجھ تک اسلام کا پیغام پہنچا تھا۔ہم سب نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی۔حضرت ابوبکر صدیق نے آنحضرت ﷺ کی جانشینی کا حق خوب ادا کیا۔ان کے عہد خلافت میں عرب میں بغاوتوں نے سراٹھایا اور جوجنگیں عرب کے اندر جاری تھیں وہ وسیع ہو کر قیصر اور کسریٰ کے ممالک کی سرحدوں کے اندر داخل ہو گئیں۔حضرت ابوبکر نے اپنے دور خلافت میں آنحضرت ﷺ کے ابتدائی صحابہ کو عام طور پر میدان جنگ میں بھیجنا پسند نہ فرمایا۔انہوں نے میرے ذمہ قبیلہ ہوازن سے صدقات وصول کرنے کا کام کیا۔اس دوران میں زیادہ عرصہ نجد میں بنو ہوازن سے صدقات وصول کرنے کے لئے بطور عامل خدمات بجالاتا رہا۔چونکہ بنو ہوازن قدرے دیر سے ایمان لائے تھے اس 77777