سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 17
26 25 صلى الله بھاگنے لگے بعض نے غلطی سے ایک دوسرے پر بھی حملہ کر دیا۔کئی دشمن پر اس خیال سے ٹوٹ پڑے کہ جب آنحضرت ﷺ اس دنیا میں نہیں رہے تو ہم بھی شہید ہو کر آپ ﷺ کے پاس جا پہنچیں۔میں نے ارادہ کیا کہ اپنا دفاع کروں گا یا شہید ہو جاؤں گا اور لڑتے لڑتے آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ جاؤں گا۔اس دوران میں نے ایک شخص کو دیکھا خون سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا میں اسے پہچان نہ سکا وہ بڑی شجاعت کا مظاہرہ کر رہا تھا اور دشمن پر حملے کر رہا تھا۔میرے اور اس کے درمیان مقداد تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ یہ شخص آنحضرت ﷺے ہیں۔آپ نے مجھے بلایا اور اپنے سامنے بٹھایا میں دشمن پر تیر پھینکنے لگا اور ساتھ ساتھ دعا کرنے لگا اے اللہ ! تو اپنے تیر سے دشمن کو تباہ کر دے اس پر آنحضرت نے دعا کی ، اے اللہ اسعد کی دعا قبول فرما اس کے تیروں کو ٹھیک نشانہ پر لگا۔اس موقع پر کفار میں سے ایک شخص نے مسلمانوں میں گویا آگ لگا رکھی تھی اور بری طرح حملے کر رہا تھا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا سعد ! اس شخص کو اپنے تیر کا نشانہ بناؤ۔میں نے تھیلے میں سے تیر نکالا اس کا پھل غائب تھا میں نے اس کے ماتھے پر تیر مارا جس سے وہ چکرا کر گر پڑا اس کی ٹانگیں اوپر ہو گئیں حضور نے دیکھا تو ہنس پڑے۔جب میرے تیر ختم ہو گئے تو آنحضرت ﷺ نے اپنے ترکش کے تیر میرے لئے زمین پر بکھیر دئیے۔میں کفار کی طرف تیر چلاتا رہا اور آنحضرت عہ مجھے تیر دیتے رہے۔حضور علیہ فرماتے میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں تیراندازی کرتے رہو۔گویا نہایت محبت کے عالم میں آپ مجھے دعائیں دے رہے تھے۔اس حالت میں بعض جاں نثار صحابہ نے صلى الله صلى الله آنحضرت ﷺ کے گرد حلقہ بنالیا تو قریش کے تین آدمی حلقے کے اندر داخل صلى الله ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ان میں میرا مشرک بھائی عقبہ بن ابی وقاص بھی تھا۔اس بدبخت نے آپ ﷺ کے چہرے پر پتھر مارا جس سے آپ علی کے دو نچلے دانت ٹوٹ گئے اور نچلا ہونٹ زخمی ہو گیا۔میں نے کمان پھینک دی اور تلوار لے کر اپنے بھائی پر حملہ آور ہوا لیکن وہ بھاگ گیا۔خدا کی قسم میں کبھی کسی کو اس بے دردی سے قتل کرنے کا خواہاں نہیں ہوا جس بے دردی سے میں اس وقت اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کو زخمی کیا تھا۔اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے اپنے چہرے سے خون صاف کیا اور فرمایا:۔وہ قوم کس طرح فلاح پاسکتی ہے۔جو اپنے پیغمبر کے چہرے کو لہولہان کرتی ہے۔جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلاتا ہے۔“ آپ عہ یہ دعا بھی کر رہے تھے کہ :۔اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اے اللہ ! میری اس قوم کو ہدایت دے ان کو علم نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔صلى الله اُحد کی جنگ میں مسلمانوں کا بہت نقصان ہوا ستر صحابہ شہید ہوئے حضور ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بھی شہید ہوئے لیکن دشمن مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں ناکام رہا اور میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔اُحد کے بعد میرا شمار خاص تیراندازوں میں ہونے لگا۔آنحضرت اللہ نے جن چودہ صحابہ سے خوشنودی کا اظہار فرمایا میں بھی ان میں شامل تھا۔//////