سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 16 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 16

24 23 ابو جہل اور دوسرے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے دشمن کے ستر بہادر مارے گئے۔ستر ہی قید ہوئے اور باقی بھاگ گئے۔چودہ مسلمان شہید ہوئے میرا چھوٹا بھائی عمیر بن ابی وقاص بھی اس جنگ میں شہید ہو گیا۔اگر چہ بعد میں بھی مجھے بے شمار جنگیں لڑنی پڑیں لیکن بدر کی یاد کبھی دل سے محو نہیں ہوتی۔میں نے وہ چوغہ ساری عمر سنبھال کر رکھا جو بدر کے دن پہن رکھا تھا۔فتح بدر کا مدینہ اور اس کے نواح پر بہت اثر ہوا۔مدینہ کا ہر دشمن خائف ہو گیا۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے بھی اسلام قبول کر لیا لیکن مخفی طور پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا رہا۔غزوہ اُحد کفار مکہ نے بدر کا بدلہ لینے کے لئے شوال سنہ 3 ھ میں بھر پور تیاری کے ساتھ تین ہزار کا لشکر ابوسفیان کے زیر کمان مکہ سے روانہ کیا۔مدینہ کے شمال مغرب میں قریب ترین پہاڑ اُحد کے دامن میں آنحضرت ﷺ ایک ہزار کا لشکر لے کر مقابلہ کے لئے آئے اور پہاڑ کو پشت پر رکھ کر کفار کا مقابلہ کیا۔اسلامی لشکر کی پشت پر ایک پہاڑی درہ تھا۔جہاں آنحضرت عمی نے پچاس تیراندازوں کو مقرر فرمایا تا کہ دشمن پیچھے سے آ کر حملہ نہ کر دے۔اس جنگ صلى الله میں دو حادثات پیش آئے ایک تو عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس خزرج تین سو ساتھیوں کو لے کر میدان جنگ سے بھاگ گیا۔یہ شخص اوپر سے مسلمان اور اندر سے کافر تھا اس لئے منافق کہلایا۔دوسرے یہ کہ مسلمانوں نے ایک ہی وار میں کفار کو میدان سے بھاگنے پر مجبور کیا اور اسی اثناء میں درہ خالی ہو گیا۔خالد بن الولید اور عکرمہ بن ابی جہل سوسو گھوڑ سواروں کی کمان سنبھالے ہوئے تھے اور ابوسفیان کے لشکر میں شامل تھے۔خالد بن الولید نے عقابی نظر سے درے کو خالی دیکھ کر پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا خالد بن ولید کو دیکھ کر عکرمہ بن ابی جہل بھی پیچھے سے حملہ آور ہوا۔پیچھے سے یک دم حملے کے لئے اسلامی لشکر تیار نہ تھا اس دوران آگے سے کفار کی پیدل فوج نے مڑ کر حملہ کر دیا۔آنحضرت علیہ اور صحابہ کے لئے یہ بہت مشکل وقت تھا۔ایک کے بعد دوسرا شہید ہو رہا تھا۔اس دوران آنحضرت علی ہے بے ہوش ہو کر گر پڑے اور یہ افواہ پھیل گئی کہ آپ ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔مسلمان سپاہی ادھر ادھر صلى الله صلى الله