سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 15 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 15

22 21 غزوہ بدر قریش مکہ رمضان سنہ 2 ھ میں ایک ہزار کا مسلح لشکر لے کر عمر بن ہشام (ابوجہل) کے زیر کمان ہم پر حملہ کرنے کے لئے مکہ سے نکا جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺ نے صحابہ سے مشورہ مانگا۔مقداد بن اسود نے مہاجرین کی نمائندگی کرتے ہوئے عرض کیا۔ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپ ﷺ کو یہ جواب دیں کہ جا تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو۔ہم یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم تو کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہو کر لڑیں الله آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔لیکن آپ مہ نے پھر مشورہ مانگا راصل آپ ﷺ کا اشارہ انصار کی طرف تھا۔جنہوں نے مدینہ کے اندررہ کر حفاظت کا معاہدہ کیا ہوا تھا۔انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ﷺ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کوحق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگر آپ عہ ہمیں سمندر میں کود جانے کو کہیں تو ہم کو دجائیں گے اور ہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں صلى الله رہے گا اور آپ ﷺ انشاء اللہ ہم کولڑائی میں صابر پائیں گے اور ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپ ﷺ کی آنکھوں کو ٹھنڈا 66 کرے گی۔“ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اللہ کا نام لے کر بڑھو اور خوش ہو کیونکہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ ہم کو ضرور غلبہ دے گا اور خدا کی قسم میں گویاوہ بں دیکھ رہا ہوں جہاں دشمن کے آدمی قتل ہو ہو کر گریں گے۔تمام صحابہ کا عجیب جذبہ تھا سب اس انتہائی خطرناک وقت میں آنحضرت ﷺ پر جانیں شمار کرنا چاہتے تھے۔میرا چھوٹا بھائی عمیر بن ابی وقاص چھوٹا تھا۔حضور علیہ نے بچوں کو واپس مدینہ چلے جانے کا حکم دیا یہ سن کر وہ لشکر میں ادھر ادھر چھپنے لگا۔حضور ﷺ نے جب اس کو واپس جانے کے لئے کہا تو وہ رونے لگا اس پر حضور نے اسے جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی۔الله الله میدان جنگ میں ہماری تعداد 313 تھی جن میں 60 کے قریب مہاجرین اور باقی سب انصار تھے۔ساری فوج میں صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔خود آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی الگ سواری نہ تھی نہایت بے سروسامانی کی حالت میں دشمن کے ایک ہزار افراد پر مشتمل لشکر سے مقابلہ ہوا جو پوری تیاری کے ساتھ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے نکلا تھا۔ان کے پاس بے شمار سواریاں اور اونٹ اور گھوڑے تھے۔خوراک کے لئے روزانہ دس اونٹ ذبح ہوتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری غیر معمولی نصرت فرمائی۔ابو جہل کے زیر کمان جولشکر بڑی شان و شوکت سے ہمیں مٹانے آیا تھا وہ بری طرح شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگا۔بدر کے دن کو خدا تعالیٰ نے یوم الفرقان قرار دیا ہے۔دشمن کی جڑ کاٹ دی گئی۔