سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 13
18 17 قریش کی حرکات و سکنات کے جائزے کیلئے مہمات قریش کی طرف سے مدینہ پر اچانک حملے کے خطرات کو دیکھ کر محمد رسول اللہ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات وسکنات کا زیادہ قریب سے جائزہ لیا جائے۔اس غرض کے لئے آپ یہ کئی مرتبہ خود کچھ صحابہ کو ساتھ لے کر مدینہ سے باہر بعض مقامات تک تشریف لے گئے اور بعض اوقات صحابہ کی ایک جماعت اس مقصد کے لئے مدینہ سے باہر بھجوائی۔ایسی کئی مہمات میں مجھے بھی خدمت کی توفیق ملی۔ہجرت کے سات ماہ بعد سب سے پہلا اسلامی لشکر آپ ﷺ نے اپنے چا حمزہ بن عبدالمطلب کے ہمراہ رمضان سنہ ادھ میں بھجوایا۔اس لشکر میں تھیں مہاجرین شامل ہوئے۔یہ قافلہ اس تجارتی قافلے کی نقل وحرکت معلوم کرنے کے لئے نکلا تھا جو تین سوسوار وں سمیت شام کی طرف سے ابو جہل کی سربراہی میں آ رہا تھا۔شوال سنہ اتھ آنحضرت ﷺ نے عبیدہ بن حارث کو ساٹھ مہاجرین پر مشتمل ایک دستہ دے کر بھیجا۔اس کا سامنا ابوسفیان کے ایک لشکر کے ساتھ جُحفہ سے دس میل دور بطن رابغ کے قریب ہوا اور میں بھی اس قافلہ میں شامل تھا۔ابوسفیان کا لشکر دو سو آدمیوں پر مشتمل تھا ان کے ساتھ معمولی جھڑپ ہوئی۔میں نے دشمن پر ایک تیر پھینکا یہ پہلا تیر تھا جو اسلام کے دور میں پھینکا گیا۔قریش کے قافلے سے دو افراد بھاگ کر ہمارے ساتھ آملے جو مسلمان ہو چکے تھے۔لیکن ہجرت کی توفیق نہیں رکھتے تھے۔آنحضرت علیہ نے ہجرت کے نویں ماہ ذوالقعدہ سنہ اھ میں مجھے بہیں مہاجرین کا ایک دستہ دے کر خرار کی طرف بھیجا۔یہ حجاز کی ایک وادی ہے جو جُحفہ میں جا گزرتی ہے۔یہ قافلہ قریش کے اس لشکر کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے بھجوایا گیا تھا جو اس مقام سے گذرنے والا تھا۔ہم دن کو کہیں چھپے رہتے اور راتوں کو سفر کرتے۔خرار پہنچنے پر معلوم ہوا کہ قافلہ وہاں سے گذر چکا ہے۔ہجرت کے بارھویں ماہ صفر سنہ ۲ ھ میں آنحضرت ﷺ خود ساٹھ مہاجرین کا قافلہ لے کر مدینہ کے جنوب مغرب میں مکہ کی طرف مقام و دان تک تشریف لے گئے۔وہاں ایک قبیلہ بنو ضمرہ آباد تھا جو قریش کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھا۔آپ علیہ نے اس کے رئیس سے معاہدہ کیا کہ بنو ضمرة مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے۔نیز یہ کہ بنو ضمرة کے اموال اور جانیں مسلمانوں سے محفوظ رہیں گی۔میں بھی اس مہم میں اپنے آقا محمد رسول اللہ علیہ کے ہمراہ تھا۔صلى الله ہجرت کے تیرھویں مہینے ربیع الاول سنہ ۲ ھ میں رسول الله الا الله۔مہاجرین کی ایک جماعت لے کر بواط کے مقام تک گئے آپ علی کے ہمراہ اسلامی پرچم میں نے اٹھایا ہوا تھا۔جمادی الاول سنہ ۲ ھ میں آنحضرت ﷺ پھر مدینہ سے باہر نکلے۔کا طریق یہ تھا کہ مدینہ میں کسی کو امیر مقرر فرما دیا کرتے تھے۔آپ ع ساحل سمندر پرینبوع کے قریب عشیرہ تک پہنچے اور بنو مدلج کے ساتھ معاہدہ کیا۔میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا۔ابوسفیان بن حرب تجارتی