الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 590

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 559 قابل ذکر ہے کہ جن واقعات کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دور کا بھی تعلق ہوتا جماعتی اخبارات میں ان کا باقاعدگی سے تذکرہ کیا جاتا تھا۔- جہاں تک قادیان سے باہر کے احمدیوں کا تعلق ہے وہ ایک غیر معمولی تناسب سے طاعون سے بچائے گئے۔ایسے دیہات میں جہاں طاعون سے ہلاک ہونے والے غیر از جماعت افراد کی شرح اموات مقابلہ کہیں زیادہ تھی وہاں احمدی اموات شاذ کے طور پر تھیں۔اگر جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ غلط ہوتا تو مخالف پریس ضرور اسے اچھالتا اور اپنے حق میں اسے استعمال کرتا۔چونکہ ایسا نہیں ہوا اس لئے بجا طور پر اسے ایک مضبوط بالواسطہ بیرونی شہادت قرار دیا جا سکتا ہے۔جماعت احمدیہ کے دعوی کی تائید میں ایک اور ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ طاعون کے ایام میں احمدیت کو غیر معمولی ترقی نصیب ہوئی۔چنانچہ جماعت کے ترجمان الحکم میں چھپنے والے اعداد و شمار کے مطابق اس نازک دور میں احمدیت قبول کرنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا جبکہ غیر از جماعت اخبارات کی طرف سے کبھی بھی اس امر کی تردید نہیں کی گئی۔یہ اعداد و شمار حقیقی تھے نہ کہ فرضی۔آخر کیوں مخالفانہ پریس نے 'الحکم کو جھٹلاتے ہوئے اپنی تائید میں کوئی ثبوت پیش نہ کیا۔یادر ہے کہ ایسے ہی مواقع پر خاموشی الفاظ سے زیادہ طاقتور ہوا کرتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ 1898ء سے 1906 ء تک جب پنجاب میں طاعون کا غلبہ تھا احمدیت نے غیر معمولی سرعت سے ترقی کی۔الحکم میں وقتا فوقتا چھپنے والے اعداد وشمار کے مطابق 1902ء تک احمدیوں کی تعداد ہزاروں سے ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔1904 ء تک یہ تعداد دو لاکھ تھی اور 1906ء میں جبکہ طاعون کا زور ٹوٹ چکا تھا احمدیوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔مندرجہ بالا بیان کی روشنی میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی غلط ثابت ہو جاتی تو احمدیت کبھی کی صفیہ ہستی سے نابود ہو چکی ہوتی اور طاعون کے عذاب سے بچ جانے والے احمدی بھی لازماً حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی نعوذ باللہ جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے نتیجہ میں طاعون کا شکار ہو جاتے۔مگر ایسا نہیں ہوا۔جس رفتار سے