الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 498
474 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق یہاں پروفیسر ڈاکٹر کو کم از کم یہ تو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ انتخاب طبیعی نے اپنے ہی خلاف عمل کر کے انواع حیات کی بقا کے رستے میں شدید مشکلات کھڑی کر دیں۔ان دونوں یعنی پھول اور پروانہ کے ارتقا کا تمامتر دارد مدار ان کے باہمی تعاون پر تھا۔لیکن ایک باشعور اور باخبر دماغ کے بغیر ایسا خود بخود ظہور میں آنا نا ممکن ہے جب کہ انتخاب طبیعی ایسے دماغ سے قطعا عاری ہے۔یہ متوازی ارتقا اپنے کمال کو ہرگز نہیں پہنچ سکتے تھے جب تک کہ انہیں کنٹرول کرنے والی ایک ایسی ہستی موجود نہ ہوتی جو ان کی الگ الگ اس طرح رہنمائی کرتی کہ وہ ایک دوسرے کی تکمیل میں مددگار ہوں۔خدا تعالیٰ کے تخلیق کردہ اس عظیم الشان کارخانہ قدرت میں اور بھی بہت سے عوامل ہیں جو انتخاب طبعی کی دسترس سے باہر ہیں۔اگر مخصوص طریق سے ترتیب دیئے گئے عناصر اپنا کردار ادا نہ کرتے اور ارتقائے حیات کو محض انتخاب طبعی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا تو زندگی اپنی مقصدیت اور توازن کھو بیٹھتی۔ارتقائے حیات کے دوران خدا تعالیٰ کے ایسے بے شمار تصرفات دکھائی دیتے ہیں جن کا انتخاب طبعی سے دور کا بھی تعلق نہیں اور جن کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ ان کا تصور ہی محال ہے۔مثال کے طور پر ڈائنو سار کی تباہی میں بھی ایک عظیم الشان مقصد پنہاں تھا۔آخر کیوں ایک بہت بڑے شہاب ثاقب کے ہاتھوں ڈائنو سار کا خاتمہ عین اس وقت ہوا جب اس کی ضرورت تھی؟ اگر یہ خدا تعالیٰ کا پہلے سے ترتیب دیا ہوا منصوبہ تھا جیسا کہ ہمارا ایمان ہے تو اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ زندگی کی دوسری اقسام کو ڈائنو سار کی عدم موجودگی میں اپنی ارتقائی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ نشو و نما دینے کا موقع ملے۔اس کا ایک اور مفید اور اہم مقصد جسے بہت بعد میں سمجھا گیا یہ تھا کہ ڈائنو سار ساحل سمندر کے قریب اس طرح دفن ہو جائیں کہ وہ بالآخر تیل میں تبدیل ہو جائیں جس کی آج کے زمانہ کے انسان کو شدید ضرورت تھی۔یہ علیم وخبیر خالق ہی کا کام ہے۔کوئی شخص اس مکمل اور بے عیب عمل کا سہرا محض اتفاق کے سرنہیں باندھ سکتا۔ایسے واقعہ کا اتفاقا وقوع پذیر ہونا نا ممکن ہے خصوصاً اب تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ اس سارے عمل کے پس منظر میں ایک کامل اور مربوط اللي منصو بہ کار فرما تھا جس سے اس کا رخانہ قدرت میں کم از کم دوا ہم مقاصد پورے ہورہے تھے۔یہ سارا عمل انتخاب طبعی کی طرف ہرگز منسوب نہیں کیا جاسکتا۔