الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 429
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 415 سفر کھرب ہا کھرب سال پہلے شروع ہوا تھا پھر بھی حسابی اعتبار سے ارتقائے حیات کا تخلیق انسانی پر منتج ہونا نا ممکن ہے۔اس کا ایک ہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے اور وہ یہ کہ اس کتاب کے مصنف اور قاری دونوں نے ابھی جنم ہی نہیں لیا۔بالفاظ دیگر نہ تو کبھی قلم وجود میں آئے گا اور نہ ہی اس کو پکڑنے والا ہاتھ۔اسی طرح نہ ہی پڑھنے والی آنکھ پیدا ہوئی ہے اور نہ ہی وہ دماغ جو اس کا ادراک حاصل کر سکے۔کیونکہ اندھے خالق یعنی اتفاق نے ابھی ان کے متعلق سوچا بھی نہیں، تو پھر من وتو کا جھگڑا کیسا ؟ آئیے ہم سب اس وقت تک خواب راحت کے مزے لوٹیں جب تک بے شعور اور اندھا اتفاق اس ارتقائی منصوبہ کی تکمیل نہ کرلے جس کا ابھی تک اسے خیال بھی نہیں آیا۔وجہ یہ ہے کہ صحیح سمت میں ایک قدم اٹھانے کیلئے اتفاق کو کروڑوں قدم غلط سمت میں اٹھانا پڑیں گے۔مگر افسوس ! اس وقت تک کائنات میں جاری عنطر اپی کا عمل اندھے خالق یعنی اتفاق سمیت ہر چیز کو نیست و نابود کر چکا ہوگا اور اس آفاقی سکوت مرگ میں اتفاق اپنی موت آپ مر جائے گا۔10248 سال اتنی لمبی مدت ہے کہ اس سے بہت پہلے ہی عطر اپی کا عمل تمام موجودات کو فنا کر چکا ہوگا۔ظاہر ہے کہ اس احمقانہ بات پر کوئی نہایت ضدی اور اڑیل شخص ہی یقین کر سکتا ہے۔لیکن اس کے باوجود بہت سے سمجھدار اور زیرک سائنسدان اس پر یقین کئے بیٹھے ہیں۔ان کا حال اس مذہبی جنونی جیسا ہے جو روزمرہ کے معاملات میں تو ہوشمندی کا مظاہرہ کرتا ہے مگر ایمان اور اعتقاد کے معاملہ میں فہم و فراست اور معقولیت کا لبادہ اتار کر خود کو تعصبات کے خول میں بند کر لیتا ہے۔حیرت ہے کہ انسان جوش جنون میں کس طرح حقائق سے آنکھیں چرا لیتا ہے۔یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ بیک وقت حقیقت اور افسانہ کی دو مختلف دنیاؤں میں بستا ہے اور ان افسانوی خیالات کی غلامی سے اسے صرف موت ہی نجات دے سکتی ہے۔