الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 401
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 389 سے پہلے ان پودوں کیلئے اپنی خوراک میں حیوانی خامروں اور لحمیات کا اضافہ ناممکن تھا۔اس امر کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا کہ ڈارون کے پیش کردہ انتخاب طبعی کے اصول کے تحت عمل ارتقا کو یہاں تک پہنچنے میں کتنے لاکھ سال درکار تھے۔بات یہ ہے کہ ایسا کسی صورت میں بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ کوئی ماہر حیاتیات بھی عام سہنر پودوں کی گوشت خور پودوں میں بتدریج تبدیلی کا خیال تک بھی پیش نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس قسم کی کامل قلب ماہیت کے بغیر گوشت خوری والے نظام حیات کے آغاز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ابھی تک کسی ماہر حیاتیات کی ایسی تحقیق ہمارے سامنے نہیں آئی جس میں گوشت خور پودوں کے بتدریج عضویاتی ارتقا کی تاریخ بیان کی گئی ہو۔جب ہم چھوٹے سے چھوٹے حشرات خور پودوں کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں اور اپنی توجہ ان کی انتہائی مربوط نامیاتی شناخت پر مرکوز کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمیں کتنے بڑے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ہر حصہ ایک خاص مقصد کیلئے بنایا گیا ہے اور اسے ایک مخلوط نامیاتی اکائی کی صورت میں ایک مخصوص طریقے سے تشکیل دیا گیا ہے۔آخری لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس امر کی بظاہر کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ ان پودوں نے اپنے ان آبا ؤ اجداد کے مفید طرز حیات کو اچانک چھوڑ دیا ہو جن کا دار ومدار اس ضیائی تالیف پر تھا جس نے بقا کی جدوجہد میں انہیں شاندار آغاز فراہم کیا تھا۔ان پودوں کے نام نہاد ارتقا میں انہیں بقا کے حوالہ سے موزوں ترین قرار دینے میں ڈارون کے بقائے اصلح کے اصول کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔اگر ایسا ہوتا تو زمین کے تمام خشک اور آبی علاقے ان پودوں سے بھر گئے ہوتے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اس ماحول میں زندہ رہنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کے پیچھے کوئی ارتقائی تاریخ نظر نہیں آتی۔علاوہ ازیں ارتقا کے اصولوں کے مطابق گو یہ بات تو قابل فہم ہے کہ کوئی پودا یا جانور نا موافق ماحول سے موافق ماحول کی طرف منتقل ہو جائے مگر اس کے برعکس یہ نہیں سنا گیا کہ یہ سفرائنی سمت بھی اختیار کر سکتا ہے۔لیکن اگر ماہرین حیاتیات کی رائے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو Sundew اور Venus fly trap کے بارہ میں ان کی رائے تو اس اصول کے برعکس نظر آتی ہے۔