الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 247

242 ايمان بالغيب کائنات کے افق کو اپنے زعم میں سو گنا وسیع کر کے دکھانے والا ، دوربین کا موجد خود اپنی ذات میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔اس محرومی کا اس کے دل پر بہت بوجھ تھا جس کی وجہ سے اس کی زندگی نا قابل برداشت حد تک تلخ ہو کر رہ گئی تھی۔اس کی بے بسی کا یہ تلخ اظہار ہمیں غیب“ کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ ولاتا ہے کہ اگر گیلیلیو نا بینا ہونے سے قبل ہی پیدائشی طور پر بینائی سے محروم ہوتا تو وہ تصور ہی نہ کر سکتا کہ زمین کے علاوہ بھی کائنات کا وجود ہے اور نہ ہی وہ روشنی اور تاریکی میں فرق کر سکتا۔اسے زیادہ سے زیادہ شنید کے مطابق روشنی کے وجود کا کچھ علم ہوتا بھی تو صرف مبہم سا۔اگر چہ وہ رنگوں اور روشنی کے وجود کی براہ راست اور ذاتی طور پر تصدیق تو نہ کر سکتا لیکن محض ایک سنی سنائی بات قرار دے کر اسے رد بھی نہیں کر سکتا تھا۔یہ مثال صرف ایک مخصوص تناظر میں اطلاق پاتی ہے۔یہاں ہم ایک ایسے نابینا کی مشکل کا تصور کر رہے ہیں جو بیناؤں کے درمیان گھرا ہوا ہے جن کی وجہ سے اسے کچھ نہ کچھ سہولت تو حاصل ہے جس پر وہ اپنے یقین کی عمارت استوار کر سکتا ہے۔اس کے برعکس ایک ایسے معاشرہ کا تصور کریں جس کے تمام افراد ہی اندھے ہوں۔کیا انہیں کبھی روشنی اور قوت بصارت پر یقین ہو سکتا ہے؟ یقینا نہیں۔اندھوں کو آنکھوں والوں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے وہ ان اشیاء کے وجود کا ادراک کر سکیں جو ان کے اپنے حیطہ ادراک سے باہر ہیں۔اس مقام پر خوب ثابت کیا جاسکتا ہے کہ حصول علم کے جسمانی ذرائع پر وحی کو کس قدر فوقیت حاصل ہے۔انسان خواہ کتنا ہی دانا کیوں نہ ہو اپنے حواس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتا۔البتہ بعض اور حواس کی موجودگی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو ان حقائق سے آگاہ کر سکتا ہے جو اس کی طاقت سے ماوراء ہوں۔آخرت کی جو تصویر کشی قرآن کریم نے کی ہے اس کا تعلق ہو بہو ”غیب“ کی ان وسعتوں سے ہے جن کا ذکر مندرجہ بالا سطور میں کیا گیا ہے۔اس صورت حال کے ضمن میں انسان کی بے بسی کے حوالہ سے قرآن کریم نے ایک نہایت خوبصورت محاورہ متعارف کرایا ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس بے بسی کا ذکر یوں کرتا ہے۔"اے انسان! تجھے کیونکر سمجھایا جائے کہ آخرت کیا ہے۔“ اس کی چند مزید مثالیں درج ذیل ہیں۔