الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 223
218 الهام کی حقیقت دیانتدار اور راستباز شخص اپنے تخیل کو اتنا بے لگام نہیں چھوڑتا کہ وہ بے معنی آوازوں اور پراگندہ تصورات کا شکار ہو کر رہ جائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے ایسے کامل راستباز، دیانتدار اور امین رسول چنتا ہے جن کا کردار اس پیغام کو ہر قسم کے کھوٹ سے پاک رکھنے کا ضامن ہوتا ہے۔لہذا ملہم کی صداقت اور امانت ہی وحی و الہام کی حفاظت اور سچائی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔پس یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ سب کی سب الہامی کتب میں مذکور تمام کے تمام انبیاء کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ مجسم امین اور راستباز تھے۔دراصل ان کی راستبازی ہی ہے جو ان کے دعویٰ کی مصدق اور اس پیغام کی حقانیت کی سب سے بڑی شاہد ہوا کرتی ہے جسے وہ دنیا تک پہنچاتے ہیں۔بعض اوقات بغیر آواز یا نظارہ کے ایک وجدانی تجربہ ایسا بھی ہوتا ہے جو درحقیقت بیرونی وحی کی ایک قسم کہلا سکتا ہے۔بہت سے بزرگ ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جن کے دوران وہ دنیا و مافیہا سے بیخبر ہو کر اپنی باطنی کیفیات میں ڈوب جاتے ہیں اور نتیجہ موتی تلاش کرنے والے غوطہ زن کی طرح عرفان کے موتی لے کر خارجی دنیا میں واپس آتے ہیں۔چنانچہ انسانی ذہن کا یہ ایک ایسا اندرونی تجربہ ہے جو بظاہر فی ذاتہ کسی آواز یا منظر کے بغیر ہوتا ہے۔لیکن یہ ایسا پر شوکت تجربہ ہے جو فورا ہی لفظوں میں ڈھل جاتا ہے اور اس تجربہ سے گزرنے والے پر اس کا اثر اتنا شدید ہوتا ہے گویا کسی نے عین بیداری کے عالم میں اس سے براہ راست اور واضح طور پر کلام کیا ہو۔تاہم اس کلام کی صداقت کو پر کھنے کیلئے مہم کی راستبازی کے علاوہ اس کے مندرجات پر غور کرنا ضروری ہے۔پس ملہم کے راستباز ہونے کے ساتھ ساتھ الہام کی تصدیق کیلئے اس کے مضامین کی اندرونی شہادت بھی ضروری ہے۔ایک نا واقف کے لئے آسان نہیں کہ وہ وحی الہی اور نفسیاتی تجربات کے مابین فرق کو واضح طور پر کچھ سکے۔تاہم اس کیفیت سے گزرنے والا شخص بالعموم پہچان سکتا ہے کہ یہ پیغام وہی الہی پر مشتمل ہے۔اگر چہ اس کی روح ملہم کے ذاتی علم اور نفسیاتی تجربات سے یکسر مختلف ہوتی ہے پھر بھی اس وحی الہی کی صداقت ایک غیر ملہم بھی خارجی شہادت کی مدد سے پرکھ سکتا ہے۔اس خارجی شہادت کا مشاہدہ ہمعصر لوگ بھی کر سکتے ہیں اور بعض اوقات کوئی پیشگوئی بعد کے زمانہ میں پوری