الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xxv
الهام ، عقل ، علم اور سچائی XXV چمگادڑ گھڑی کے دندانوں اور سپرنگ کی اتنی معمولی سی حرکت کو بھی سن سکتی ہے جو انتہائی حساس کان رکھنے والا گھڑی ساز بھی نہیں سن سکتا۔عنوان کے متعلق اتنا کہنا ہی کافی ہوگا۔ہم معذرت کے ساتھ مصنف سے شدید اختلاف رکھتے ہیں اور یہ کہنے پر معافی چاہتے ہیں کہ اس کا نظریہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔بہر حال پروفیسر ڈاکنز عالمی شہرت کے حامل ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد نئی نسل کے ان سائنسدانوں سے تعلق رکھتی ہے جو ہر یہ پہلے ہیں اور سائنسدان بعد میں۔یوں لگتا ہے د جیسے یہ لوگ قدرت کے عظیم اسرار کے بارہ میں ہمیشہ ہی الجھنوں کا شکار رہے ہیں اور یقیناً اس بات پر حیران بھی کہ ایک باشعور اور ماہر صناع کے بغیر آخر وہ پیدا کس طرح ہو گئے۔پروفیسر ڈاکٹر کی صورت میں انہیں اپنا ایک اور ہم خیال رہنما مل گیا جس نے حقائق کو اس ہوشیاری سے توڑ موڑ کر پیش کیا کہ طبعی سائنس کے بعض جدید رجحانات رکھنے والے طالب علم بھی دھو کہ کھا گئے اور سمجھے کہ ان کی الجھن حل ہوگئی ہے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ صرف وہی لوگ اس مغالطہ کا شکار ہوئے جو خو داس کا شکار ہونا چاہتے تھے۔اگر انہوں نے پروفیسر ڈاکنز کے پیش کردہ انتخاب طبعی کے اصول کا تعصب کے بغیر کھلے ذہن سے تجزیہ کیا ہوتا تو یقیناً پروفیسر صاحب کے موقف میں موجود غلطیاں اور تضادات انہیں نظر آ جاتے۔شاید ان کے پھیلائے ہوئے اندھیروں میں وہ اس لئے پناہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں کہ کچھ بھی ہو وہ خدا تعالیٰ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ہمیں بعض ایسے لوگوں کا تجربہ ہے جنہوں نے ایمان اور مذہب کے ہر معاملہ میں پہلے ہی سے اپنے کٹر عقائد وضع کر رکھے ہیں۔موجودہ کتاب نہ تو ایسے لوگوں سے براہ راست مخاطب ہے اور نہ ہی ان کے اندر ہم کسی حقیقی تبدیلی کی امید رکھتے ہیں۔ہمارا مخاطب تو وہ قاری ہے جس میں کوئی سائنسی یا غیر سائنسی عصبیت اور کٹر پن نہیں پایا جاتا۔پروفیسر ڈاکنز کا نظریہ دراصل کوئی نئی چیز نہیں کیونکہ ڈارون نے 1859ء کے آغاز میں اپنی عظیم کتاب The Origin of Species (اصل انواع) میں آنکھ کی پیچیدہ ساخت پر بحث کرتے ہوئے خود اس نظریہ کو بیان کیا ہے۔وہ ہے