الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 97
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 97 دو اور عقائد بھی شامل ہیں جن میں سے ایک تو روح اور مادہ کا اور دوسرے پر میشر اور اس کے ماتحت دیوتاؤں کا ابدی ہونا ہے اس فلسفہ کی رو سے زمین پر زندگی کلیہ نئی تخلیق نہیں ہے۔اگر چہ تمام جاندار اپنی ذات میں انادی نہیں ہیں مگر انادی اجزا سے بنے ہیں۔دھرتی ما تا ان کے نزدیک محض ایک ایسی لیبارٹری کی حیثیت رکھتی ہے جہاں روح اور مادہ کو باہم ملانے سے مختلف شکلیں ظہور میں آتی رہتی ہیں۔پس وہ خدا کی تخلیقی قدرتوں کو کسی پنساری یا عطار کی مہارت سے زیادہ نہیں سمجھتے۔خدا تعالیٰ اپنی ذات میں ایسا خالق ہے جو عدم محض سے کوئی چیز تخلیق نہیں کر سکتا۔ان کے نزدیک کائنات میں زندگی کے تین مدارج ہیں۔سب سے بلند درجہ دیوتائے اعلیٰ برہما کا ہے جس کے ساتھ بہت سے دیوتا اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق کائنات کے مختلف نظام چلاتے ہیں۔ان میں بعض بادلوں کے لانے اور آسمانی بجلی کی گرج چمک کے ذمہ دار ہیں۔کچھ دوسرے دیوتا نظام فطرت کو چلانے کے ذمہ دار ہیں۔وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں کسی حد تک با اختیار ہیں اور شاذ ہی ایک دوسرے سے الجھتے ہوں۔تا ہم کبھی ان کا متصادم ہونا کا ئنات کیلئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔آسمانوں میں طوفان برپا کئے جاتے ہیں اور زمین پر غضب نازل ہوتا ہے۔ان دیوی دیوتاؤں کی خوشنودی ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور ان کی ناراضگی بنی نوع انسان کو مہنگی پڑتی ہے۔اس طرح دولت کے دیوتا ہیں، بارآوری کے اور صحت و طول عمری کے دیوی دیوتا ہیں۔نہ جانے کس کس چیز کے دیوی دیوتا ہیں۔ہندوؤں کے نزدیک اس درجہ کے افسانوی دیو تا ابدیت کے حامل ہوتے ہیں۔جاندار اشیاء کا دوسرا یا درمیانی درجہ مادہ اور روح پر مشتمل ہے۔ان کے باہمی ملاپ سے حیات کا ادنی درجہ معرض وجود میں آتا ہے جس کا تعلق زمین پر موجود زندگی سے ہے۔اس ہندو فلسفہ کے مطابق دیوتاؤں میں سے صرف اعلیٰ ترین دیوتا برہما کو ہی یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ روح اور مادہ کو جوڑ کر زمین پر زندگی پیدا کر سکے۔ہندو فلسفہ کے لٹریچر میں ویدوں کی تعلیمات کے حوالہ سے یہ بحث بہت تفصیل سے ملتی ہے کہ یہ سلسلہ کب اور کیوں شروع ہوا۔ویدوں کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز اس طرح نہیں ہوا جس طرح جدید سائنس بیان کرتی ہے۔یعنی زندگی کئی ارب سال پہلے چٹانوں کی سطح اور سمندروں