الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 69
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 69 تعلق مادہ کی اس مسلسل حرکت اور اس کی طبعی خصوصیت سے ہے جس کی وجہ سے مادہ ہمیشہ ایک مثالی حالت کی طرف ارتقا پذیر رہتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ارسطو کے نزدیک کسی خاص لمحہ میں کیا گیا مشاہدہ اس لمحہ کی حقیقت کہلائے گا۔لہذا ان حقائق سے عقل جس نتیجہ کو اخذ کرتی ہے اسے علم کہا جائے گا۔اور جب مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے مشاہدہ اس علم کی تصدیق کر دے تو اسے صداقت کے طور پر تسلیم کر لینا مناسب ہوگا۔پرانے دور سے تعلق رکھنے والے فلسفیوں میں ارسطو کو ایک نمایاں اور امتیازی مقام حاصل ہے۔فلسفیانہ فکر کے بہت سے ادوار پر اس کا ایک دائگی اور مستقل اثر رہا ہے یہاں تک کہ آج بھی فلسفہ کی کوئی شاخ ایسی نہیں جسے ارسطو کے فکر اور زبردست فہم و فراست سے کلیہ آزاد کہا جاسکے۔اور یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یونان کے اکثر فلسفی خواہ وہ ہستی باری تعالی پر ایمان بھی کیوں نہ رکھتے ہوں الہام کو خدا تعالیٰ سے علم پانے کا ضروری ذریعہ قرار نہیں دیتے تھے۔بلکہ زیادہ سے زیادہ عقل انسانی کو مشاہدہ اور تجربہ کی روشنی میں علم اور صداقت کے حصول کا معتبر ترین ذریعہ تسلیم کرتے تھے۔یونانی فلسفہ کا یہ مختصر تذکرہ یونان کے ان تمام عظیم فلسفیوں کا احاطہ نہیں کرتا جنہوں نے فکر انسانی کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔موجودہ جائزہ کا بنیادی مقصد صرف اتنا ہے کہ ان یونانی فلسفیوں کے ہاں موجود عقل، الہام اور صداقت کے تصور کا مختصر طور پر جائزہ لیا جائے جن کے اقوال باقی رہنے والے اور جن کی شہرت لازوال ہے۔اس موقع پر ضروری ہے کہ سقراط اور اس کی شخصیت کا تفصیلی خاکہ پیش کیا جائے۔سقراط یونان کے فلسفیوں میں سے اعلیٰ ترین کردار کا حامل تھا۔اس کے افکار اور کردار میں کوئی تضاد نہیں ہے۔لیکن بعض جدید مصنفین نے اس کی تصویر کشی کچھ اس رنگ میں کی ہے کہ اس کے خدو خال دھندلا کر رہ گئے ہیں اور تضاد کا شکار ہو گئے ہیں۔سقراط جیسے عظیم معلم اخلاق کو آج ہم بڑی حد تک افلاطون، زینوفون اور اس کے بعض دیگر ہمعصروں کے آئینہ میں دیکھتے ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج تک اس کے صحیح مقام کی شناخت نہیں کی جاسکی۔زینوفون کے متعلق یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ ایتھنز کے باشندوں کی طرح دیو مالائی قسم کے مشرکانہ عقائد رکھتا تھا اور وہی اپنے مشرکانہ عقائد کو سقراط کی طرف منسوب کرنے کا زیادہ تر ذمہ دار بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سقراط کے