الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 51
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 51 چنانچہ مارکسزم میں نہ تو آسمانی وحی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی ایسے ضابطہ اخلاق کی جس کی بنیاد وحی پر ہو۔معلوم ہوتا ہے مارکس نے انسانی معاملات معاملات سے اخلاق کو اس خطرہ کے پیش نظر خارج کیا کیونکہ اخلاقیات کو تسلیم کرنے سے بالآخر ہستی باری تعالیٰ کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔اخلاقیات کو مسترد کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مارکس کو یہ خطرہ تھا کہ مبادا اخلاقیات تند و تیز پرولتاری انقلاب کے راستے کی دیوار بن کر رہ جائیں۔پرولتاری یعنی محنت کش طبقہ اخلاقی قدروں کے نام پر اپنے بورژوا آقاؤں کے غلام بن کر رہ گئے تھے۔اس کے نزدیک ضروری تھا کہ آقا اور غلام کے اس رشتے کو ختم کر دیا جائے اور عوام کو کھلا چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ اپنے غاصب اور جابر آقاؤں کے خلاف پوری قوت سے جدو جہد کر سکیں۔ہرگز یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کسی قسم کی اخلاقی جیل و حجت انقلاب کے راستہ میں حائل ہو۔لہذا محنت کش عوام کو چاہئے کہ وہ پوری آزادی سے قتل وغارت ، لوٹ مار اور تباہی و بربادی کے ذریعہ بورژوا طبقہ کے اقتصادی اور سیاسی غلبہ کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دیں۔اس طرح مارکس کے نزدیک اخلاقی قدریں ہی اس ملحدانہ نظام کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔مارکس کا فلسفہ اس کی متوازن سوچ کے باوجود تضادات سے پر ہے۔وہ اپنے بیان کردہ تصورات کی بنیاد اتنی وضاحت اور صحت کے ساتھ عقل اور تجزیہ پر رکھتا ہے کہ ان تصورات میں پائے جانے والے تضادات کے جرم کا اس پر شک بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس کے باوجود مارکسزم میں گہرے تضادات موجود ہیں۔تضاد کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوگی کہ ایک طرف تو وہ اخلاقیات کو مکمل طور پر مستر د کر دیتا ہے اور دوسری طرف اپنے انقلاب کی بنیاد ہمدردی پر رکھتا ہے جو کہ ایک اخلاقی قدر ہے۔اسی پر بس نہیں بلکہ مظلوموں کے ساتھ ایسی ہمدردی جو عدل و انصاف کی تمام حدوں کو پار کرتی ہوئی دوسروں پر ظلم کی حد تک جا پہنچے، تو اس صورت میں یہ تضاد اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔انسانی معاملات میں انصاف کی عدم موجودگی میں اگر قیام انصاف کے نام پر کوئی تحریک شروع کی جائے تو اس تحریک کے بنیادی اصول یعنی انصاف سے کسی صورت بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا۔اس کی مثال تو ایسے ہی ہے جیسے انسان اسی شاخ کو کاٹنے لگے جس پر وہ خود بیٹھا ہو۔علاوہ ازیں ایک ایسے نظام حیات کا علمبر دار جس کے ہاں جذبات اور اخلاقی ضوابط کے