الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 44
44 فلسفة یورپ معمہ بھی۔جہاں تک اس کی تصدیق کا تعلق ہے تو اس کے لئے ایمان اور دلی جوش و جذبہ کی ضرورت ہے اور عقل کو ایمان کا متبادل قرار دینا عیسائیت کی موت ہے۔اگر کر کی گارڈ اس مسئلہ پر تفصیلی غور کرتا تو اسے پتہ چلتا کہ وہ جس نتیجہ پر پہنچا تھا اس کا الٹ بھی درست ہے۔بالفاظ دیگر مطلب یہ بنتا ہے کہ عیسائیت دلیل اور عقل سے یکسر عاری ہے اور کلمبیڈ رڈ کرنے والا ہی اس سے وابستہ رہ سکتا ہے۔جو نہی یہ کچھوا اپنے خول سے گردن باہر نکالنے کی جسارت کرتا ہے، عقل، جو موقع کی تلاش میں ہے، وہیں اس کا سر قلم کر دیتی ہے۔بایں ہمہ کر کیگارڈ عیسائیت اور عقل دونوں کا بیک وقت قائل ہے۔شاید اسے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی مہارت حاصل تھی۔بر کلے (Berkeley) اور ہیگل (Hegel) ہمیشہ اس بات پر مصر رہے کہ عقل کو حواس خمسہ پر مبنی تجربہ پر فوقیت دی جانی چاہئے۔ان کے نزدیک خدا محض ایک تصور تھا جو منطقی خلا کو پر کرنے کیلئے ایجاد کیا گیا تھا۔چنانچہ یہ بحث عیسائیت کو ماننے والے اور نہ ماننے والے یورپی فلسفیوں کے مابین پورے زور شور سے اس وقت تک جاری رہی جب تک یہ آگ خود بخود ٹھنڈی نہ پڑ گئی۔صرف الحاد اور لا اور بیت (agnosticism) کے تابوتوں میں بند ایمان کی راکھ ہی تھی جو باقی بچی۔جہاں تک یہودی فلسفیوں کا تعلق ہے ان کی حکمت عملی نسبتا محفوظ تھی۔وہ اپنے دین کی تاریخی حیثیت پر یقین رکھتے تھے۔یہودیت نے ماضی میں اپنے حریفوں پر جو شاندار فتوحات حاصل کیں وہ ایمان کی چنگاری کو سلگائے رکھنے کیلئے کافی تھیں۔لہذا اس مسئلہ پر ایمان اور عقل کے مابین بحث ان کیلئے غیر متعلق تھی۔ملحدین میں نیٹشے (Nietzsche) ، سارتر (Sartre) ، مارلیو پانٹی (Merlean-Ponty)، کامیو(Camus) اور مارکس (Marx) کا ایک اپنا ہی گروہ تھا۔ان میں سے کسی کا بھی تعمیم (Generalization) پر ایمان نہ تھا۔ان کے نزدیک موضوعیت کو عالمگیر بنانا مناسب نہ تھا۔کیونکہ ہر شخص کا ذاتی تجربہ منفرد نوعیت کا حامل ہوتا ہے جس میں دوسرے اسی طرح شریک نہیں ہو سکتے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ایک ذیلی باب مارکسزم (Marxism) کیلئے مخصوص ہونا چاہئے۔ہم اس فلسفہ سے جتنا چاہیں اختلاف رکھیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے عالمی طور پر