الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 43

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 43 سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ان کوششوں کو باقاعدہ اداروں کی سر پرستی حاصل ہے اور بڑی بڑی عالمی طاقتیں ان کی مالی امداد کرتی ہیں۔جوں جوں ہم جدید دور کے قریب آتے چلے جاتے ہیں خصوصاً بین تھم (Bentham) ، مل (Mill) اور سج وک (Sidgwick) کے وقت سے عقل پر انحصار بڑھتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کے مقابل پر ایمان کی اہمیت بتدریج کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔عقلیت پر روز افزوں اصرار بالآخر ایمان باللہ کے انکار کا باعث بنا۔اس طرح عقلیت قطب شمالی کی طویل سحر کی طرح غالب ہوتی چلی گئی جو کبھی کبھار aurora کی رنگین کرنوں سے جگمگا اٹھتی ہے۔عقلیت پسندوں نے حصول علم وصداقت کے دوسرے ذرائع پر عقل کو ترجیح دی۔تا ہم عقلیت پسندوں میں بھی عیسائیت کے ماننے والے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔البتہ مؤخر الذکر گروہ ہی ہمیشہ غالب رہا۔معقولیت کے اس دور میں کلیسا کو چاروناچار منطق کا سہارا لے کر عیسائیت کا دفاع کرنا پڑا لیکن اپنی غلط حکمت عملی کے نتیجہ میں وہ عقل سے ٹکر لے بیٹھا۔عیسائیت پر ایمان لانے والوں میں اس دور میں سب سے نمایاں کر کیگارڈ (Kierkegaard) ، ژاسپر (Jaspers) اور مارسل (Marcel) تھے۔سب سے پہلے کر کیگارڈ نے کلیسا کو متنبہ کیا کہ وہ ایمان اور عقل کی منطقی بحث میں الجھ کر خود کشی کا ارتکاب نہ کرے۔ایمان پر عقل کے کاری حملوں کے خلاف دفاع کیلئے کی جانے والی اس کی کوششوں کے بارہ میں کو پل سٹن (Coppleston) اپنی کتاب "Contemporary Philosophy" میں لکھتا ہے: کر کیگارڈ کے نزدیک یہ طریق کار عیسائیت سے بددیانتی اور غداری تھی۔ہیگل کا فلسفہ عیسائیت کا اندرونی دشمن ہے اور کسی عیسائی مصنف یا مبلغ کا حق نہیں کہ وہ عیسائیت میں تعلیمیافتہ عوام کے حسب منشاء رد و بدل کر دے۔تجسیم یسوع کا عقیدہ یہود کے لئے ایک ابتلا تھا اور یونانیوں کے نزدیک ایک حماقت۔اور یہی صورت حال ہمیشہ رہے گی۔کیونکہ یہ عقیدہ نہ صرف ماوراء العقل ہے بلکہ عقل کے لئے ناگوار بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عظیم تر