الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 653

622 تتمه بعض منکرین اس عالمگیر شہادت کو محض ایک دینی واہمہ قرار دے کر رد کر دیا کرتے ہیں۔بے شک یہ بات خارج از امکان قرار نہیں دی جاسکتی۔لیکن وحی الہی کی شہادت اس قسم کے واہمہ سے اس قدر الگ اور ممتاز ہوا کرتی ہے کہ ان دونوں کو باہم خلط ملط کیا ہی نہیں جا سکتا۔ان کا باہمی فرق اتنا ہی واضح اور بین ہوا کرتا ہے جیسے زندگی اور موت یا روشنی اور اندھیرے کا۔تاہم یہ بھی درست ہے کہ جوں جوں ہم نبی کے زمانہ سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں یہ شہادت بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔بڑھتی ہوئی مادہ پرستی لوگوں پر زہر کی طرح اثر کرتی ہے۔ان کے ذہنوں کو آلودہ کر دیتی ہے اور دلوں کی پاکیزگی کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔وحی الہی پر ایمان بھی اس نسبت سے کمزور ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بے یقینی اور تشکک کے باعث روحانی موت کا ایک منجمد دور شروع ہو جاتا ہے۔صرف جھوٹ اور فریب باقی رہ جاتے ہیں۔منافقت گھس آتی ہے اور مذہب کا تقدس پامال ہو جاتا ہے۔ایمان صرف نام کا باقی رہ جاتا ہے۔اکثریت کی عملی زندگی ان کے دعوئی ایمان کی نفی کرتی ہے۔زندگی کے ہر شعبہ سے سچائی مفقود ہو جاتی ہے۔شک والتباس بلکہ بے ایمانی یقین کے ایوانوں میں داخل ہو جاتی ہے۔روحانیت ہتھیار ڈال دیتی ہے۔تاہم اس کے باوجود خدا اور بندہ کے درمیان مکالمہ مخاطبہ کلیہ ختم نہیں ہوتا۔ایسے میں وحی الہی ہی دم توڑتے ہوئے ایمان کو زندہ رکھتی ہے۔اس مکمل تاریکی میں بھی عشق الہی میں مخمور لوگوں پر اللہ تعالیٰ پوری شان سے جلوہ گر ہوتا ہے۔شکوک وشبہات اور جہالت کے اس دور میں کہیں کہیں نمونہ کے طور پر وحی الہی کے چھینٹے پڑتے بھی ہیں تو ان کی خدا کے اپنے خاص بندوں سے محبت کے اظہار سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔قرآن کریم مسلسل یہی پیغام دے رہا ہے اور بڑی وضاحت سے ایک مومن کو ہر دور میں وحی الہی سے مشرف ہونے کا وعدہ دیتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ آپ یہ یہ اعلان فرما ئیں: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُولّى إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًان ( الكهف 111:18) ترجمہ: کہہ دے کہ میں تو محض تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ