الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 531

504 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم شخص اپنے جرم سے بری الذمہ نہیں ہو جاتا۔اور اس میں کوئی منطق نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خوف کو دور کرنے کے لئے فرعون کی موت کی طرف اشارہ تک نہیں کیا۔اس کے برعکس انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ ہرگز خوف نہ کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کے بھائی کی حفاظت فرمائے گا۔یہ توجیہہ کہیں زیادہ معقول نظر آتی ہے۔مزید برآں مسئلہ یہ ہے کہ رمسیس ثانی کی ممی کی حالت کے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کی شہادت یہ ہے کہ اس نے توے سال عمر پائی اور اپنی زندگی کے آخری تیس سال انتہائی نقاہت، کمزوری اور غالباً شریانوں کے سکڑنے کی امراض کے باعث بستر علالت پر گزارے۔عین ممکن ہے کہ اس کی یہ حالت اس کے ڈوب کر مرنے کے قریب پہنچ جانے کے بعد ایک بلا واسطہ نتیجہ کے طور پر ہوئی ہو جس کی وجہ سے اس کا دماغ آکسیجن کی مناسب مقدار نہ مل سکنے کی وجہ سے مستقلاً مفلوج ہو گیا ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدین کی طرف ہجرت اور وہاں کا عرصہ قیام آٹھ سے دس سال تک بنتا ہے جس کے اختتام پر رمسیس ثانی کی عمر چالیس سے پچاس سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔لہذا بائیبل کا یہ بیان نا قابل قبول ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف فرعون کی موت کا انتظار کر رہا تھا تا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بطور نبی مبعوث فرما کر مصر واپس جانے کا حکم دے۔ضمنا قرآن کریم یہ ذکر بھی کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جس فرعون کے پاس واپس گئے اس نے آپ پر قتل کا الزام تو ضرور لگایا لیکن بوجہ ان معجزوں کے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے وہ آپ کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھانے سے باز رہا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا سزا سے بچ جانا کسی ایک فرعون کی موت اور دوسرے کی تخت نشینی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی مصر میں واپسی کے بعد کی زندگی کو قرآن کریم اور بائیل دونوں نے بیحد مصروف قرار دیا ہے اور فرعون کے ساتھ ان کا مقابلہ کم و بیش دس سال پر محیط دکھائی دیتا ہے کیونکہ بیان کردہ معجزات تمام کے تمام ایک یا دو سال کی محدود مدت میں سمیٹے نہیں جا سکتے۔اس کے برعکس مؤرخین کے اندازہ کے