الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 527
500 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم ہو کر مشاہدہ کرنے والے انسان کی سوچ سے بالا ہیں۔چنانچہ بائیل فرعون اور اس کی فوج کے متعلق صرف اتنا بتاتی ہے کہ بلا استثناء وہ سب ڈوب گئے۔اور پانی پلٹ کر آیا اور اس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا غرق کر دیا اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا۔پر کا کا بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے۔“ ( خروج 14: 28-29 ) بائیکل کے اس بیان سے واضح ہے کہ سارے کا سارا لشکر بشمول فرعون سمندر کی نذر ہو گیا۔ی کمل تباہی تھی۔اس کے بالمقابل قرآن کریم میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے: وَجُوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَاءِيْلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَ عَدْوا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ أَمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بنوا إِسْرَاعِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَن وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ايَةٌ وَاِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ أَيْتِنَا لَغَفِلُونَ (يونس 10 : 91-93) ترجمہ: اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر پارا تا ر لائے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے بغاوت اور زیادتی سے کام لیتے ہوئے ان کا تعاقب کیا یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا تو اس نے کہا میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں ( بھی ) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔کیا اب (ایمان لایا ہے ) ! جبکہ اس سے پہلے تو نا فرمانی سے کام لیتا رہا اور تو مفسدوں میں سے تھا۔پس آج کے دن ہم تجھے تیرے بدن کے ساتھ نجات بخشیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کیلئے ایک عبرت بن جائے۔حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر یقینا ہمارے نشانات سے بالکل غافل ہیں۔یہاں یہ امر بالخصوص توجہ طلب ہے کہ قرآنی بیان کے بر عکس بائیبل کے بیان میں فرعون کی جسمانی نجات کے امکان کا کوئی اشارہ تک نہیں ملتا۔کیونکہ بائیل کے مطابق ان میں سے ایک