الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 20

20 اسلامی مکاتب فکر ن کتنا یہ امر قابل ذکر ہے کہ عقلیت پسندی کے خلاف دلائل دیتے ہوئے اشعری خود انہی کے ہتھیار استعمال کر رہے تھے۔پس یہ کہنا درست نہیں کہ وہ سراسر عقلیت پسندی کے خلاف تھے۔اس مکتبہ فکر کے امام غزالی اور امام رازی وغیرہ جیسے پیروکار اپنے مسائل کے حل اور عقائد کی مضبوطی کیلئے عقلی دلائل پر بے حد انحصار کرتے تھے کہ اسلامی دنیا میں متعارف ہونے والے نئے فلسفوں سے کہیں اسلامی تعلیم کو ہی نقصان نہ پہنچ جائے۔یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں مجرد عقل کا استعمال ایسی تحریکات کا پیش خیمہ نہ بن جائے جو بالآخر حقیقی اسلام سے دور لے جانے والی ہوں۔اس لئے عقلیت پسندی کا میلان رکھنے والی تمام ایسی تحریکات کو الحادی یا بدعتی قرار دے دیا گیا جو ایک ہتک آمیز اصطلاح ہے کیونکہ اس سے مراد صراط مستقیم سے انحراف ہے۔عقلیت پسند تحریکات کے بانیوں کو کٹر علماء جن القابات سے نوازتے تھے ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علماء کا یہ کٹر طبقہ کہ پریشان تھا۔مثلاً وہ ان کو معتزلہ یا الحادی کہتے تھے یعنی راہ راست سے ہٹ جانے والے۔ایک اور گروہ جو متر ڈیہ کے نام سے موسوم ہے اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ وحی کو پہلے بعینہ قبول کر کے اس کی تائید میں منطقی تو جیہات تلاش کرنی چاہئیں۔وہ یقین رکھتے تھے کہ وحی ایمان کو مضبوط کرتی ہے جبکہ منطقی تشریحات اس ایمان کو مزید تقویت بخشتی ہیں۔اشعریہ نے منطقی تشریحات کا کلی رد نہیں کیا بلکہ وہ انہیں زوائد میں سے سمجھتے تھے۔ان کے نزدیک اگر منطقی تشریح ممکن ہو تو فبہا وگرنہ مطلق وحی منطقی اور عقلی دلائل کے بغیر ہی کافی ہے۔اشعریہ ہی کا ایک انتہا پسند گروہ جنہوں نے قدیم علماء کی اندھا دھند پیروی کی سلفیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ان کے نزدیک وحی کو بغیر کسی فلسفیانہ یا منطقی تو جیہہ کے بلا حیل و حجت قبول کر لینا چاہئے۔کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ یہ تشریحات بالآخر صراط مستقیم سے انحراف پر منتج ہوں گی۔جہاں تک معتزلہ کا تعلق ہے انہوں نے اس امر سے انکار نہیں کیا کہ وحی صداقت تک معتزلہ پہنچنے کا معتبر ترین ذریعہ ہے۔تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وحی کا حقیقی پیغام عقلی استدلال کے بغیر صحیح معنوں میں سمجھا نہیں جاسکتا۔چنانچہ انہوں نے عقل کو وحی پر ان معنوں میں ترجیح دی کہ جب کبھی یہ دونوں بظاہر ایک دوسرے سے متصادم نظر آئیں تو وحی کی صحیح تفہیم کیلئے عقل کو فوقیت دی جائے گی یعنی عقل کو یہ فوقیت الہام کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ الہام کی صحیح