الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 380
372 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح ہمیشہ صحیح وقت پر صحیح سمت میں ہی یہ قدم اٹھایا جائے۔بہر حال افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر سائنسدان ہمیشہ ایک ایسی علیم و خبیر ہستی کے وجود سے جان بوجھ کر آنکھیں موند لیتے ہیں جس کا انتخاب ہمیشہ درست ہوتا ہے اور فیصلہ کرنے کیلئے اسے کسی پانسہ پھینکنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔تخلیق انسان کی طرف ارتقا کا مسلسل سفر کیسے ممکن ہوا جبکہ اس کے لئے ہر لمحہ غلط سمت میں قدم اٹھانے کے بے شمار امکان موجود تھے ؟ اس پیچیدہ اور بظاہر لا نخل مسئلہ کا ایک ملتا جلتا حل ممکن ہے یعنی ارتقا نے واپسی کا وہی رستہ اختیار کیا ہو جو ایک لڑکے نے بارش کے دوران اختیار کیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک لڑکا بہت دیر سے سکول پہنچا۔استاد کے ڈانٹنے پر اس نے یہ عذر تراشا کہ سکول کے راستہ میں بہت کیچڑ تھا اور پھسلن اتنی زیادہ تھی کہ اگر میں ایک قدم آگے بڑھاتا تھا تو دو قدم پیچھے لڑھک جاتا تھا۔استاد نے غصے سے پوچھا تو پھر تم سکول پہنچے کیسے؟ لڑکے نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا ”معافی چاہتا ہوں جناب! دراصل مجھے ذرا دیر سے خیال آیا کہ مجھے سکول کی بجائے گھر کی سمت منہ کر کے چلنا چاہئے۔چنانچہ جب میں نے اس طرح چلنا شروع کیا تو سکول کی طرف تیزی کے ساتھ پھسلتا چلا آیا (اگر چہ میں عموماً اس قدر تیز نہیں چلا کرتا ) یہاں تک کہ میر اسر سکول کی دیوار سے ٹکرا گیا۔سکول پہنچنے کی جلدی میں مجھے سارا راستہ الٹا ہی چلنا پڑا۔“ زندگی کو در پیش مشکلات کو اگر محض اتفاقات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو یہ اس لڑکے کی مشکل کی نسبت کہیں زیادہ حیران کن بات ہوگی۔اتفاقات پر مبنی ارتقا اگر ایک قدم آگے بڑھتا تو اصولاً اسے لاکھوں قدم پیچھے لڑھک جانا چاہئے تھا۔لیکن جیسا کہ بعض ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ چونکہ حیات کیلئے کسی مقررہ سمت کا تعین نہیں کیا گیا اس لئے ارتقا کے آگے کی طرف سفر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر اتفاقات کو ہی زندگی کا خالق قرار دیا جائے تو ہر اٹھنے والے پہلے قدم کی سمت اور اس سفر کی منزل کے تعین میں لا یخل مسائل درپیش ہوں گے کیونکہ کوئی بھی قدم کسی بھی سمت میں اٹھ سکتا تھا۔تاہم حیات کے اس سفر کو الٹی سمت چلانے سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔اگر انسان ارتقا کی آخری منزل نہ ہوتا تو زندگی ویرانوں میں بھٹک کر رہ جاتی اور اتفاقات کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی خصوصیات معدوم ہو کر رہ جاتیں۔اگر غلط سمت میں قدم بڑھایا جاتا تو وہ سب کچھ ضائع ہو جاتا جو جینیاتی تغییرات کے نتیجہ