الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 317

جنات کا وجود ا اب ہم سائنسی تناظر میں ازمنہ قدیم کے قصے کہانیوں میں مذکور جن کی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں۔قرآن کریم نے جن کا جو تصور پیش کیا ہے اس پر مختصراً Life in the Perspective of Quranic Revelations ( زندگی کے بارہ میں قرآنی نظریہ ) میں بحث اٹھائی گئی ہے۔عربی لغت کے لحاظ سے لفظ جن کے درج ذیل معانی ہو سکتے ہیں۔جن کا لفظ کسی پوشیدہ، غیر مرئی، الگ تھلگ اور دور کی چیز پر دلالت کرتا ہے۔اس میں گہرے اور گھنے سائے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے جنة کے لفظ کو (جو اسی مادہ سے نکلا ہے ) جنت کیلئے استعمال کیا ہے جو ایسے گھنے باغات پر مشتمل ہے جن کے سائے بہت ہی گہرے ہیں۔جن کے لفظ کا اطلاق سانیوں پر بھی ہوتا ہے جو فطرتا پوشیدہ اور چھپ کر رہنا پسند کرتے ہیں جس کیلئے وہ الگ تھلگ بلوں اور چٹانوں میں موجود سوراخوں کا انتخاب کرتے ہیں۔جن کا لفظ با پردہ عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ایسے سرداروں اور بڑے لوگوں کیلئے بھی جو عوام سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔اسی طرح دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لوگوں پر بھی جن کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔امختصر عام انسانی نگاہ سے اوجھل اور پوشیدہ ہر چیز پر جن کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔جن کے لفظ کا مذکورہ بالا مفہوم آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کے عین مطابق ہے جس میں آپ ﷺ نے لوگوں کو خشک گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ یہ جنوں کی خوراک ہے۔جس طرح آج کل صفائی کیلئے ٹائلٹ پیپر استعمال کئے جاتے ہیں اسی طرح پرانے زمانہ میں لوگ صفائی کیلئے مٹی کے خشک ڈھیلے، پتھر یا قریب پڑی کوئی اور خشک چیز استعمال کیا کرتے تھے۔پس ہم بآسانی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں جس جن کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد کوئی غیر مرئی مخلوق ہی ہے جس کا گزارہ ہڈیوں اور فضلہ وغیرہ پر ہوتا ہے۔یادر ہے کہ اس وقت دنیا میں بیکٹیریا اور وائرس کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اور کوئی 311