الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 6

تعارف : تاریخی تناظر میں ایک مستقل حقیقت سمجھیں تو عین ممکن ہے کہ ہم غلطی پر ہوں۔روشنی سے زیادہ اہم، روشنی پیدا کرنے والا ریڈی ایشن (Radiation) کا وہ عمل ہے جس کے بہت سے مظاہر میں سے روشنی تو صرف ایک ہے۔دراصل بنیادی حقیقت تو ریڈی ایشن ہے جو طیف یعنی spectrum میں ارتعاش پیدا کرنے یا نہ کرنے کے سبب کبھی ظاہر اور کبھی پوشیدہ رہتی ہے۔دراصل لہروں کا یہی ارتعاش ہے جو ہمیں روشنی کی شکل میں نظر آتا ہے۔اس لحاظ سے سورج کی تابانی کو اپنی ذات میں ایک مستقل حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔لیکن جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے اگر سورج کی تابانی کے اصول کو بخوبی سمجھ لیا جائے تو جہاں کہیں بھی ایسا عمل ہوگا وہ ایک ہی نتیجہ پیدا کرے گا اور اس لحاظ سے اس کو ایک ایسی دائمی حقیقت کا نام دیا جا سکے گا جو تابکاری اور روشنی کے قوانین میں کارفرما ہے۔اس مثال سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ ابدیت کی اصطلاح ہر جگہ کسی نہ ٹوٹنے والے اور ہمیشہ جاری رہنے والے تسلسل کو ظاہر نہیں کرتی۔ابدیت سے مراد وہ سبب ہے جس کی موجودگی ہمیشہ ایک جیسے نتائج پیدا کیا کرتی ہے۔ابدی صداقت کی اس سادہ تفہیم کے بعد جو خارجی حقائق سے متعلق ہے کشش ثقل کو بجا طور پر ایک دائی حقیقت قرار دیا جا سکتا ہے۔تا ہم اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ کشش ثقل کے عمل میں خفیف سا رد و بدل بھی اس کی غیر مبدل اور بنیادی حیثیت کو جھٹلا نہیں سکتا۔اس تمام بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر چہ ہر ابدی صداقت سے علم حاصل ہوتا ہے لیکن ہر علم کو ابدی صداقت نہیں کہہ سکتے۔علم کسی شے کا وہ ادراک ہے جو ہمارے دماغ میں مستند معلومات کے ایک جزو کے طور پر محفوظ ہو جاتا ہے۔انسانی علم کا تمام تر ذخیرہ ایسی جزئیات سے مل کر ہی تشکیل پاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یقینی علم کیسے حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے صحیح یا غلط ہونے کو کیسے پرکھا جا سکتا ہے؟ مزید برآں ان علوم کو مختلف شاخوں مثلا وقتی نسبتی ، ٹھوس اور ابدی صداقتوں میں کیسے تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ یہ انسان کی قوت استدلال اور قوت فکر ہی ہے جو دماغ تک پہنچنے والے پیغامات پر مختلف ممکنہ پہلوؤں سے بار بار غور کرنے کے بعد مختلف نتائج اخذ کرتی ہے۔یہی وہ ذہنی عمل ہے جو صحیح کو غلط سے اور واضح کو مہم سے جدا کرتا ہے اور عقل کہلاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم کے اجزائے ترکیبی کی دریافت کا یہ طریق کار کس حد تک