الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 5

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 5 وحدانیت کے دنیا میں از سر نو قیام کیلئے انسان کبھی کبھار اپنی سی کوشش بھی کر دیکھتا ہے لیکن افسوس کہ ایسی کوششیں پوری طرح بار آور نہیں ہوتیں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاص تائید اور رہنمائی کے بغیر اس انحطاط کا رخ کبھی بھی موڑا نہیں جاسکا۔گزشتہ فلسفیوں اور صوفیا کے مختلف نظریات پر یہاں مفصل بحث تو نہیں کی جاسکتی تا ہم ماضی کے کچھ ممتاز دانشوروں نے الہام، عقل اور ان کے باہمی تعلق کے بارہ میں جو کچھ بیان کیا ہے اس کا مختصر ذکر ضرور کریں گے۔ابدی صداقت کیا ہے علم کسے کہتے ہیں اور اگر ان کے درمیان کوئی تعلق ہے تو وہ کیا ہے؟ کیا الہام ایسا علم عطا کرتا ہے جو بالآخر ابدی سچائی تک لے جاتا ہو یا ہر دو یعنی علم اور ابدی سچائی کے حصول کے لئے مجرد عقل ہی کافی ہے؟ زمانہ قدیم سے ہی کیا فلاسفر اور کیا مذہبی رہنما اور کیا سیکولر مفکرین ان سوالوں اور ان جیسے دیگر سوالات کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔لیکن پیشتر اس کے کہ ہم بنظر غائران موضوعات کا مطالعہ کریں مناسب ہوگا کہ پہلے ابدی سچائی کے بارہ میں مختلف مفکرین کے نظریات کی مزید وضاحت کر دی جائے۔خدا تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے تمام لوگ جو ابدی صداقت کے علمبردار ہیں اس کو ماضی، حال اور مستقبل کے حوالہ سے ایک غیر مبدل حقیقت تسلیم کرتے ہیں۔اس لحاظ سے ابدی صداقت سے ان کی مراد بنیادی طور پر خدا تعالیٰ اور اس کی صفات ہیں لیکن جب سیکولر ( خدا کو نہ ماننے والے فلسفی اس پر بحث کرتے ہیں تو وہ اکثر خدا تعالیٰ کے حوالہ سے بات نہیں کیا کرتے۔ان کی بحث بالعموم بعض اقدار مثلاً سچائی ، دیانت، امانت، خلوص اور وفا وغیرہ کے حوالہ سے ہی ہوا کرتی ہے۔فلسفیوں کے نزدیک سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ ہر آن تغیر پذیر کائنات میں کیا کسی غیر مبدل حقیقت کا وجود ہے بھی یا نہیں۔اسی طرح اگر ایک مسلمہ سچائی کی حیثیت کو بھی چیلنج کیا جائے جیسا کہ اکثر اوقات ہوتا ہے تو انسان سوچنے لگتا ہے کہ مختلف حالات میں سچائی کا مفہوم کہیں مختلف تو نہیں ہو جاتا۔اسی سوال کا ایک اور پہلو بھی ہے جو سچائی کے اس تصور سے تعلق رکھتا ہے جو عالم شہود کے پس پردہ عالم غیب کے بارہ میں قائم کیا جائے۔مثال کے طور پر اگر ہم سورج کی روشنی کو فی ذاتہ