الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 208

202 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور ہوئے ٹی۔جی۔ایچ سٹر یلو (T۔G۔H۔Strehlow) کا موقف یوں بیان کرتا ہے کہ اس قبیلہ کے نزدیک 8<< زمین اور آسمان ہمیشہ سے موجود ہیں اور مافوق الفطرت ہستیوں کا مسکن چلے آ رہے ہیں۔مغربی آرانڈا کے قبیلے کا عقیدہ ہے کہ آسمان میں رہنے والا ایمو پرندے کے پنجوں جیسے پاؤں رکھنے والا عظیم باپ (Kinaritia) ہے جو (Altjira nditia) یعنی از لی طور پر جوان ہے۔اس کی کتوں کے سے پنجوں والی بہت سے بیویاں ، بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔وہ پھلوں اور سبزیوں پر گزارہ کرتے اور ایک سدا بہار سر زمین پر رہتے تھے جس میں قحط نہیں آتے تھے اور جس میں کہکشاں ایک وسیع و عریض دریا کی طرح رواں دواں تھی۔ان کا مسکن باغ عدن کی مانند ہے جو لہلہاتے ہوئے درختوں، پھلوں اور پھولوں سے لدا ہوا ہے۔آسمان کے یہ تمام باسی ان کے خیال کے مطابق سدا جوان رہتے ہیں اور موت کی دسترس سے باہر ہیں۔باوجود اس کے کہ آسمان کے یہ باسی جو ٹوٹی (Totemic) زمانہ کے ہیرو یا عظیم لوگوں سے بھی پہلے موجود تھے اپنے لافانی ہونے اور دوسروں کے پیشرو ہونے کے لحاظ سے برتری کے حامل ہیں مگر سٹر یلو (Strehlow) بجاطور پر آسٹریلوی مذہب کی تشکیل میں ان کی اہمیت تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔وہ یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ آسمان پر بسنے والے یہ وجو د سب سے برتر ہیں کیونکہ زندگی کی تخلیق اور تشکیل میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔9 سٹریلیو (Strehlow) کے دلائل رد نہیں کئے جاسکتے کیونکہ جن فرضی وجودوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ ابدی تو خیال کئے جاتے ہیں لیکن ازل سے موجود نہیں۔جبکہ خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔نہ ہی ان وجودوں کی طرف صفت خالقیت منسوب کی جاتی ہے۔چنانچہ انہیں ایک خالق کی خدائی میں شریک بھی قرار نہیں دیا جاتا۔عین ممکن ہے کہ اس عقیدہ کو غلط طور پر اس تصور سے جو دیگر تمام آسمانی مذاہب میں یکساں ہے خلط ملط کر کے دیو مالائی کہانیوں کی شکل دے دی گئی ہو۔البتہ یہ تفاصیل کہ جنت کے اس سب سے عظیم باسی کے پاؤں ایمو (Emu) پرندے جیسے ہیں اور اس کی بیوی اور بچوں کے پاؤں کتے کی طرح کے ہیں، اسے باقی مذاہب سے مختلف بنادیتی ہیں۔ورنہ