الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 168

164 دکھ اور الم کا مسئله غیر صحتمند۔اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بچے کی صحت بذات خود ایک نسبتی قدر ہے۔شاید ہی دو بچے ایسے ملیں جن کی ذہنی و جسمانی صحت اور تمام اعضاء یکساں ہوں۔دکھ اور تکلیف کے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے خالق کے متعلق بھی ایک موزوں سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔اگر ایک بچہ جو چھوٹی چھوٹی آنکھیں ، ایک بڑی بھدی سی ناک اور دوسرے غیر متناسب نقوش لے کر پیدا ہوا ہو تو کیا وہ اپنے دوسرے خوش نصیب ساتھیوں کی خوبیاں دیکھ کر عمر بھر دکھی نہیں رہے گا ؟ صحت اور شکل وصورت کا یہ اختلاف بہت سے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کر دے گا۔کیا مطلق انصاف اور ایمانداری کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو صحت اور ظاہری خدو خال میں یکساں پیدا کرتا۔فکری اور قلبی استعدادوں اور رجحانات کے موازنہ کو بھی شامل کر لیں تو اعلیٰ اور ادنیٰ کا باہمی تضاد بھی زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔دونوں انتہاؤں کو چھوڑ کر عام انسانوں سے معمولی فرق بھی انصاف کے خلاف دکھائی دینے لگے گا۔یکسانیت کو ختم کر کے تنوع پیدا کرنے کیلئے آخر کہیں سے تو ابتداء کرنا ہوگی۔تنوع اور تفاوت کی نسبت سے تکلیف اور راحت بھی لازماً پیدا ہوگی۔معذور بچوں کیلئے رحم کے نام پر ترتیب کا ئنات کے خلاف اعتراض اور چیز ہے لیکن اس سکیم کو بظاہر زیادہ ہمدردانہ اور انصاف پر مبنی سکیم سے بدل دینا ایک اور چیز۔انسان ابتدائے آفرنیش سے موجود کائنات کی اس سکیم کو بدلنے کی کوشش تو کر سکتا ہے لیکن اس کا نعم البدل پیش کرنے کے قابل ہر گز نہیں ہے۔بالفاظ دیگر ہم اسی سوال کی طرف واپس لوٹتے ہیں کہ کوئی بیماری اور تکلیف آخر ہے کیوں؟ اور یہ کیوں ناگزیر ہے؟ اس سوال کا ایک جواب ہم پہلے ہی اوپر دے چکے ہیں۔آئیے ایک دہریہ اور ایک مومن کے نقطہ نگاہ سے اس مسئلہ کا جائزہ لیتے ہیں۔منطقی لحاظ سے دہریوں کے لئے نہ تو کوئی حل طلب مسئلہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا سوال جس کا جواب مطلوب ہو۔کیونکہ بقول ان کے وہ اپنی ہستی کے لئے کسی خالق کے محتاج نہیں۔نیز اگر انہیں اس اتفاقی تخلیق میں کوئی نقص نظر آتا ہے تو اصولاً کوئی خالق اُن کے سامنے جوابدہ نہیں۔ہر تکلیف، ہر شامت اعمال اور ہر خوشی کی غیر مساویانہ تقسیم کیلئے صرف چانس یا اتفاق کو ہی ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے اور اس سے صدیوں پرانی بحث کا خاتمہ ممکن ہے۔دہریوں کے نزدیک چونکہ اصل خالق چانس یا اتفاق ہے، خواہ اس کا نام نیچر ہی کیوں نہ رکھ لیں جس میں نہ تو شعور ہے نیز یہ بہرا، گونگا ، اندھا