الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 164
162 دکھ اور الم کا مسئله تاہم یہ مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے بلکہ بہت زیادہ الجھا ہوا، وسیع اور پیچیدہ ہے اور اسے بعض فرضی یا حقیقی سائنسی مثالوں کی مدد سے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔بعض صورتوں میں وضاحت مشکل ہو جاتی ہے۔مثلاً بعض پیدائشی نقائص والے بچوں کے متعلق یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ انہیں کیوں تکلیف میں ڈالا گیا؟ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ان کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوا۔اگر کہیں کوئی غلطی ہے تو خواہ یہ نادانستہ طور پر ہی ہو، والدین کی ہو سکتی ہے۔اس سیاق و سباق میں لفظ نقص کو اس کے وسیع معانی میں سمجھنا چاہئے جس میں حادثاتی واقعات کے نتیجہ میں جنم لینے والی پیدائشی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ایسی غلطیوں کا دانستہ جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔کسی نقص کی وجہ کچھ بھی ہو، یہ بات یقینی ہے کہ اس نقص کے ساتھ پیدا ہونے والا معصوم بچہ کسی بھی صورت میں اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ہر تکلیف سزا نہیں اور نہ ہی ہر خوشی جزا ہے۔کچھ لوگ بغیر کسی وجہ کے تکلیف میں مبتلا نظر آتے ہیں۔تاہم ایسے معاملات کو بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں بالا رادہ نا انصافی کا سوال نہیں بلکہ ایسی تکالیف تخلیق کے وسیع تر منصوبہ کا ناگزیر نتیجہ ہیں اور یہ انسانی معاشرہ کے عمومی ارتقا میں ایک با مقصد کردار ادا کرتی ہیں۔یا درکھیں کہ علت اور معلول اور اسی طرح جرم اور سزا، خواہ کتنے ہی مشابہ کیوں نہ دکھائی دیں، دو مختلف امور ہیں۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ جرم ہی ایک سبب ہے جس کے نتیجہ میں سزا ملتی ہے لیکن یہ دعوئی درست نہیں کہ ہر تکلیف ماضی میں سرزد ہونے والے کسی جرم کی سزا ہے۔یہ کہنا غلط ہے کہ تمام صحت مند بچے اپنے والدین کے کسی نیک عمل کے صلہ میں صحتمند ہیں۔اسی طرح یہ بات بھی درست نہیں کہ ہر بیمار بچہ اپنے آباؤ اجداد یا اپنے والدین کے کسی نا معلوم جرم کے باعث بیمار ہے۔صحت اور بیماری، اہلیت اور نا اہلی ، خوش قسمتی اور بدقسمتی ، پیدائشی صحت یا معذوری، اپنی ذات میں اثر انداز ہونے کے علاوہ ایک وسیع نظام میں بھی ایک فعال کردار ادا کرنے کیلئے ضروری ہیں اور جرم اور سزا، اچھائی اور صلہ کے تصور سے نمایاں طور پر الگ ہیں۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے راحت کی طرح تکلیف بھی زندگی کے ارتقا کی لازمی اور بنیادی شرط ہے جس کا ارتقا کے اس سفر میں جرم و سزا کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔