الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 102

102 هندو مت مجموعی آبادی آج کی نسبت کروڑوں اربوں گنا زیادہ ہوتی۔تمام انواع کے جانداروں کی مجموعی تعداد کھرب ہا کھرب سے بھی زیادہ ہے۔لہذا بلاتر در یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بیکٹیر یا سمیت تمام جاندار کسی زمانہ میں ضرور انسان رہے ہوں گے۔ایسی صورت میں تو مقدس رشیوں کے وقت میں انسانی آبادی اتنی تو ہونی چاہئے تھی جسے شمار کرنے کیلئے تمام تخمینے نا کافی ٹھہر ہیں۔نیز کرہ ارض کو آج کی نسبت اربوں گنا زیادہ وسیع ہونا چاہئے تھا جس میں ویدک دھرم کے خوف خدا رکھنے والے پیروکاروں کی ساری کی ساری آبادی سماسکتی۔ضمناً یاد رکھنا چاہئے کہ سائنسدان ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ابتدائے زمانہ میں تبت کی سرزمین جس میں یہ چار عظیم روایتی رشی رونق افروز تھے اس کی تو ابھی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی۔کرہ ارض کا یہ حصہ تو بہت بعد میں آج سے تقریبا ایک ارب سال قبل بر اعظموں کے سرکنے اور باہمی ٹکراؤ کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا تھا۔ماہرین ارضیات اور دیدوں کے علماء کے مابین اس نزاع کی وجہ سے چار رشیوں والا منظر نامہ شکوک و شبہات کے دھندلکوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے جہاں ان رشیوں کو تبت کی سطح مرتفع پر موجود اپنے بلند مقامات سے رواں دواں دنیا کو بڑے اطمینان سے مشاہدہ کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔البتہ پروفیسر ورمن جیسے ہندو علماء کو یقینا یہ حق حاصل ہے کہ وہ ماہرین ارضیات کی اس گپ شپ کو بھی اسی طرح ہوش و حواس سے عاری سمجھیں اور اسی طرح کھوکھلی قرار دیں جیسے انہوں نے نظریہ ارتقا کو رد کر دیا۔اب اس سائنسی تحقیق کو بھی سائنسی تو ہمات قرار دے کر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دنیا چاہئے جس میں نظریہ ارتقا کو پہلے ہی پھینکا جا چکا ہے۔آئیے اب انسانی آبادی کے سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔یہ آبادی بقول ان کے عظیم رشیوں کے مقدس صلب سے پھیلی، سوچیں تو لازماً یہ آبادی نا قابل یقین حد تک وسیع ہوگئی ہوگی۔کیونکہ آنے والے جانوروں کی انواع کے آباؤ اجداد وہی تو تھے۔یہ انہی کی گنہگار ارواح تھیں جو ادنی درجہ کے جانوروں کے مقام تک گرا دی گئی تھیں۔اس وقت کی انسانی آبادی کی تعداد میں بھی آنے والی تمام انواع کے جانوروں کی کل تعداد بھی شامل سمجھی جانی چاہئے۔ڈھیروں ڈھیر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے ، بل کھاتے انسانوں کی زمین جیسے ایک چھوٹے سے سیارہ پر اتنی کثیر تعداد کے تصور سے ہی انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔کسی بھی بلندی سے دیکھا