الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 96
96 هندو مت بھیڑوں کی بجائے گائے عام ہے اس لئے اگر عوام الناس کو گائے سے تشبیہ دی جائے اور کرشن کو گائیوں کا رکھوالا کہا جائے تو یہ بات بخوبی سمجھ میں آجاتی ہے۔اسی طرح ان کے حواریوں کو گو پیاں کہا جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔حضرت کرشن کے بارہ میں دیو مالائی قصوں کو ظاہر پر محمول کرنے کی بجائے محاورات اور استعاروں کے رنگ میں سمجھنا چاہئے۔ان کی تصویر میں ان کے چار ہاتھوں اور پروں سے علامتی طور پر وہ غیر معمولی صلاحیتیں اور قومی مراد ہو سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ودیعت فرماتا ہے۔قرآن کریم بھی پیغمبر اسلام کے تعلق میں پروں کا ذکر فرماتا ہے۔چنانچہ آپ عملے کو خدا کی طرف سے مومنوں پر رحمت کے پروں سے سایہ لیکن ہونے کا ارشاد ہے۔اسی طرح جہاں فرشتوں کے پروں کی مختلف تعداد کا ذکر ملتا ہے تو مرادان کی خصوصیات ہوتی ہیں نہ کہ ظاہری پر۔لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دینی محاوروں اور تمثیلات کو ان کے پیروکار اس حد تک لفظی مفہوم پر محمول کر لیتے ہیں کہ اصل حقیقت کلیۂ نظر انداز ہو جاتی ہے۔حضرت کرشن اور ان سے منسوب تصورات بھی اس قاعدہ سے مستقلی نہیں۔وو حضرت کرشن کو ” مرلی دھر، یعنی بانسری بجانے والا بھی کہا جاتا ہے۔اس جگہ بانسری واضح طور پر الہام کی علامت ہے۔کیونکہ وہ دھن جو بانسری سے نکلتی ہے دراصل بانسری کی اپنی دھن نہیں بلکہ اسے بانسری میں پھونکا جاتا ہے۔بانسری سے خود بخود کوئی دھن نہیں نکلتی۔پس بانسری خود کرشن تھے جنہیں خدا کی بانسری کے طور پر دکھایا گیا ہے اور خدا نے جو سُر بھی اس میں پھونکا، انہوں نے بعینہ اسے آگے دنیا کو پہنچایا۔اس لئے حضرت کرشن کو دیگر انبیاء سے کسی طرح بھی منفرد اور الگ قرار نہیں دیا جا سکتا جنہوں نے خدا کے پیغام کو دیانتداری کے ساتھ من وعن دنیا تک پہنچایا۔اس طرح دنیا کو یہ یقین دلانے کیلئے کہ انبیاء اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ جو انہیں خدا کی طرف سے الہام کیا جاتا ہے وہی دنیا کو پہنچاتے ہیں، بانسری ان کی دیانتداری کی بلیغ ترین علامت ٹھہرتی ہے۔آئے ہندومت کے ایک اور بنیادی عقیدہ یعنی تناسخ کا جائزہ لیں۔یہ عقیدہ چند ایک دیگر مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے جن میں سے نمایاں ترین بدھ مت ہے۔تناسخ کے علاوہ ہند و فلسفہ میں