الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 77

الهام ، عقل ، علم اور سچائی اخلاقیات سے متعلق سقراط کے بنیادی نظریات یہ ہیں کہ نیکی علم ہے۔تمام نیکیوں میں کچھ کھا وحدت پائی جاتی ہے۔نیکی مسرت ہے۔۔۔" سقراط کا یہ نظریہ بھی ہے کہ جو شخص اچھے اور برے کا علم رکھتا ہے وہ کسی بھی نیکی سے محروم نہیں رہ سکتا۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شخص جراتمند، پاکباز ، معتدل مزاج اور انصاف 766 77 پسند ہو۔وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ ایک کامل طور پر نیک انسان یقیناً زیادہ خوش رہتا اور اس شخص کی نسبت زیادہ پر سکون اور مطمئن ہوا کرتا ہے جو نیکی سے محروم ہو۔7 ہم سقراط کے علم الاخلاق کے بارہ میں جے ناوے (Janaway) کے خیالات سے پوری طرح متفق ہیں۔در اصل سقراط ایک ایسے قانون کا ذکر کر رہا ہے جس کا انسانی نفسیات سے بہت گہرا تعلق ہے۔اور جسے کلیہ کے طور پر تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔مثلاً یہ علم ہی ہے جو ایک خاردار جھاڑی کو ایک حشی درندے سے بچاؤ کی واحد پناہ گاہ رکھنے کی صورت میں ایک معقول آدمی کو کانٹوں کی چھین جو نسبتا کم تکلیف دہ ہوتی ہے برداشت کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے اور جب تک وہ شخص محفوظ ہے اسے کانٹوں کی اذیت بھی ایک راحت محسوس ہوتی ہے۔سقراط کو اس بات سے انکار نہیں کہ صحیح علم رکھنے والے انسان کو جسمانی تکلیف نہیں ہوتی۔وہ زور اس بات پر دے رہا ہے کہ صحیح علم رکھنے والا شخص اس کام کو مناسب حال سمجھے گا جس میں اسے اطمینان قلب نصیب ہوگا۔یہ بات آج بھی ویسے ہی سچ ہے جیسے کل تھی۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے نیک بندے اپنی مرضی سے تکالیف برداشت کرتے ہیں اور اس میں انہیں مسرت ملتی ہے۔خدا کے فضل سے محرومی ان کے لئے نا قابل برداشت ہوا کرتی ہے۔اسی طرح وہ عظیم لوگ جو اصولوں کو قربان کرنے کے بعد آرام کی زندگی بسر کرنے کی بجائے تکلیف کے ساتھ مرنے کو ترجیح دیتے ہیں ان کی موت تو خوشی کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ وہ اپنی اخلاقی فتح کے احساس کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔وہ روحانی اذیت کو قبول کرنے کی بجائے جو ان کیلئے بہت زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے جسمانی اذیت کو خوشی سے برداشت کر لیا کرتے ہیں۔ولاسٹوز نے سقراط کی نیکی اور تقویٰ پر ایک طویل باب باندھا ہے جس میں اس کے