الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 68

68 26s یونانی فلسفه ڈوب کر اپنے تصور کی آنکھ سے ان کے باہمی ربط کا مشاہدہ کرے۔اس کے خیال میں یہ ایک با قاعدہ نظام ہے جو بیک وقت ابدی، قابل فہم اور مبنی بر خیر ہے۔افلاطون کے برعکس ارسطو دکھائی دینے والی خارجی حقیقت کو ترجیح دیتا ہے۔اس کے نزد یک انسان کسی خاص وقت جو ادراک حاصل کرتا ہے وہی سچائی ہوتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ارسطو کے نزدیک خارجی دنیا بذات خود ایک ابدی صداقت ہے۔ارسطو بھی ایسے تصورات کی موجودگی کا قائل تھا جن کی جانب تمام مادی اجسام حرکت پذیر ہیں۔افلاطون کے برعکس وہ مادہ کو ایک قائم بالذات ابدی حقیقت سمجھتا ہے أرسطو اور ایک ایسے ارتقا کا نظریہ پیش کرتا ہے جس میں کوئی بیرونی با شعور ہستی کسی قسم کا کردار ادا نہیں کر رہی۔اس کے خیال میں یہ ارتقا مادہ کے اندر پوشیدہ طبعی خواص کے باعث ہے۔لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ارسطو ایک خالق خدا کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس وہ ایک ایسی بالا ہستی پر ایمان لاتا ہے جس کے باعث دراصل علت و معلول کا یہ تمام سلسلہ جاری ہے اور جسے علت اولی یا علت العلل کہہ سکتے ہیں۔تاہم جب ہم سقراط، افلاطون اور ارسطو کے بیان کردہ خدا کے تصور کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے تصورات میں ہمیں بتدریج تبدیلی نظر آتی ہے۔سقراط کے یہاں خدا تعالیٰ کی ہستی کے ساتھ ایک بہت گہرا اور ذاتی تعلق نظر آتا ہے۔اس کی شخصیت کی تعمیر ہی انبیاء کی طرز پر ہوئی ہے۔سقراط کے شاگردوں کی پہلی نسل میں بڑی حد تک سقراط کی روح موجود ہے اور افلاطون اس پہلی نسل کا نمائندہ ہے جس کے فلسفیانہ اور سائنسی مباحث پر روحانیت کی چھاپ نمایاں ہے۔لیکن افلاطون سے ارسطو تک کے عبوری دور میں ہمیں اس خدا کا تصور روبہ زوال نظر آتا ہے جو مظاہر قدرت میں ایک زندہ اور فعال کردار ادا کرتا ہے۔اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ ارسطو خدا اور بندہ کے درمیان کسی قسم کے رابطے کا قائل تھا۔اگر چہ ارسطو کے فکری نظام میں نہ تو کسی ازلی ابدی سچائی کا کھل کر ذکر پایا جاتا ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کسی قسم کی تحقیق و جستجو کے آثار ملتے ہیں۔تاہم اگر اس کی تحریروں کا تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاں بھی ایک ازلی ابدی سچائی کا تصور موجود ضرور ہے۔اور اس تصور کا