الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 60

60 فلسفة یورپ ہر طوفانی سمندر قدرتی ہیجان کے بعد پُر سکون ہو جاتا ہے یہاں تک کہ سطح سمندر پر ہلکی سی ہر بھی نظر نہیں آتی۔اسی طرح ریت کا ایک وسیع اور لق و دق صحرا بظاہر مکمل امن و سکون کا منظر پیش کرتا ہے۔انسانی معاشرہ کے متعلق مارکسزم کا تصور بھی اس منظر سے ملتا جلتا ہے لیکن اشترا کیوں کو یہ معلوم نہیں کہ ایسے پر سکون مناظر در اصل موت کے عکاس ہوا کرتے ہیں۔جہاں ہر قسم کی اونچ یچ کل یا ختم ہو جائے وہاں طبعی قوتوں کا باہمی رد عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔اشترا کی یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ پُر سکون سمندر اور پُر سکوت صحرا انسانوں کی طرح آزاد نہیں ہیں کہ اگر چاہیں تو مکروفریب سے طبعی تفاوت کی عدم موجودگی میں بھی مصنوعی تفاوت پیدا کر سکیں۔مزید برآں انسان کے لئے یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ ایک ایسا ضابطہ حیات تجویز کر سکے جو معاشرہ میں پائی جانے والی ہر قسم کی اونچ نیچ کو گالیہ ختم کر دے۔پانی کے قطرات آپس میں متماثل ہو سکتے ہیں۔ریت کے ذرے بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہو سکتے ہیں لیکن انسانوں کے بارہ میں ایسا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہیں اس طرح پر تخلیق ہی نہیں کیا گیا۔مارکس کے فلسفہ میں کمیونزم کی جس خیالی جنت کا تصور ہے اس کی تشکیل انسان ہی کرتے ہیں۔اگر ایک اشترا کی ریاست کے ہر شہری کو یکساں اقتصادی مواقع مہیا ہوں اور سب کو ایک سی عمدہ غذا ملے اور انسانی خواہشات عین اس کی ضرورت کے مطابق ہو جائیں تو پھر اصولاً ایسی کوئی برائی پیدا ہی نہیں ہونی چاہئے جو لالچ کا نتیجہ ہو۔جس معاشرہ میں ایسی اقتصادی مساوات موجود ہو اس میں چوری، ڈاکہ یا دھوکہ دہی کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں رہنی چاہئے یہاں تک کہ کسی کو دولت اکٹھی کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے۔جہاں کوئی شہری حکومت کی فراہم کردہ اشیاء کے علاوہ کچھ اور خرید ہی نہ سکے وہاں بظاہر ایسے معاشرہ کو بالآخر تمام جرائم سے پاک ہو جانا چاہئے کیونکہ جرم کے سب سے بڑے محرک یعنی لالچ کا قلع قمع ہو چکا ہوگا۔جب یکساں اقتصادی مواقع، یکساں ضروریات اور ان ضروریات کو یکساں طور پر پورا کرنے کی ضمانت میسر ہو، بشر طیکہ معاشرہ کا ہر فرد کما حقہ محنت کرے، تو صرف اسی صورت میں ہی مکمل ریاستی استحکام کا اشترا کی خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ایسے معاشرہ کو اپنے معاملات