الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 50
50 فلسفة یورپ منکر بھی ہے۔اس کے نزدیک مطلق مثالیت اور جدلیاتی مادیت میں صرف ترتیب کا فرق ہے۔فیصلہ طلب امر یہ ہے کہ ان دونوں میں سے اولیت کس کو حاصل ہے۔اس پہلو سے ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے جس کے حل ہو جانے پر ہم مارکس کے در پردہ مقاصد کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔اس نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ کوئی نظام اخلاقی قدروں کے بغیر بھی بلا روک ٹوک آسانی سے چل سکتا ہے۔اس جیسے ذہین آدمی سے یہ توقع تو کی نہیں جا سکتی کہ اُسے اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو کیونکہ اس نے اپنی ذہانت کے باعث یہ بخوبی اندازہ کر لیا تھا کہ ہستی باری تعالیٰ اور اخلاقی قدروں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کو پیدائشی طور پر اخلاقی قدروں کا شعور حاصل نہیں بلکہ بعض اوقات تو وہ آسمان تلے بدترین مخلوق بن کر سامنے آتا ہے اور ایسی کوئی کوشش انسان کو اچھے اور برے کی تمیز نہیں سکھا سکتی جس کا منبع و ماخذ ایمان باللہ نہ ہو۔لیکن مارکس کو بخوبی اندازہ تھا کہ اس کے فلسفہ اور ایمان باللہ میں بعد المشرقین ہے۔چنانچہ اس کے نظام فکر میں کسی بھی ایسے امر کیلئے کوئی گنجائش نہیں جو ہستی باری تعالیٰ سے متعلق ہو۔چنانچہ اسے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔یا تو اشترا کی نظام کے مفاد کے تحفظ کی اشاعت اور ترویج کے حق میں فیصلہ کرتا۔گویا یوں اس نظام کو واپس اللہ تعالیٰ کی طرف لانے کا خطرہ مول لیتا یا پھر اس خطرہ سے دامن بچاتے ہوئے ایک ایسے خطرہ کو دعوت دیتا جس سے بالآخر اشتراکی نظام کی نفی ہو جاتی۔غالبا وہ سمجھتا تھا کہ فوری سزا کا خوف اشتراکیت کے ارباب حل و عقد میں اخلاقی قدروں کے خلا کو ایک حد تک پر کر دے گا۔لينن اس کا یہ مفروضہ قطعی طور پر غلط ثابت ہو چکا ہے کیونکہ انسان جب گرتا ہے تو جابر سے جابر شخصی حکومت کی بے رحم اٹھی بھی اس کی اصلاح نہیں کر سکتی۔مارکس کی جدلیاتی مادیت میں خدا کے لئے کوئی جگہ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اشتراکی نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی جن لوگوں نے اخلاقی قدروں کے حق میں بات کرنے کی جرات کی وہ لینن کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہو گئے۔