الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 684

xxiv تخلیق میں مٹی کا کردار۔قرآن کریم اور تخلیق کا ئنات 273-261 تخلیقی منصوبہ بندی۔تخلیقی نظام ترک دنیا۔61, 62, 81, 110, 128, 133, 139, 195, 197, 209, 210, 219, 220, 453, 573 219۔۔۔۔۔۔۔22, 23, 123۔296۔۔156, 345۔۔168,436۔حضرت یوسف کا بادشاہ کو خواب کی تعبیر بتانا 2019 تعلق بالله۔۔12713032 تعلیم و تربیت ترک دنیا کے لمبے سفر کا آغاز ہوتا ہے جو بالآخر نجات پر تعلیمات۔58 منتج ہوتا ہے 127 ترکیبی مرکبات۔۔210۔تشدد 178,254,517 ,58,175 ,32 ,31 تشریعی انبیاء غیر تشریعی نبی تصوف رصوفی ازم۔587۔584, 587, 589, 598۔3, 4, 22, 23۔انسانوں میں الہی تعلیمات انسانی واسطہ ہی سے پہنچتی ہیں 107 تفرقه بر القرآن۔۔۔606 44۔30, 184, 185, 604۔۔۔19, 539, 554, 590, 599, تصوف ترکی، ایران اور دریائے آمو سے مشرق کے نیز دیکھئے آیات قرآنیہ تقد علاقہ میں، جو تاریخی طور پر ماوراء النہر کے نام سے یاد حیات انسانی میں خیر اور شر کا ظہور کسی ناگزیر باطنی نظام کا کیا جاتا ہے، خاصا مقبول تھا 22 تصوف کے چار معروف سلسلے ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ شریعت کی راہ سے دور ہوتے چلے گئے 23 تصوف نے پہلے روس کے زاروں اور پھر اشتراکیت کے دور میں ان علاقوں میں اسلام کو زندہ رکھنے میں اہم نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ ذہن اور اخلاقی اقدار سے انسانی تقدیر مبرم تقدیر تشکیل پاتی ہے 57 546۔تقوی 621 ,231 ,226 ,88 ,77 ,76 تکلیف 85,157-160,162,166,168, کردار ادا کیا 22 مسلمان صوفیاء وحدت الوجود کے اس روایتی نظریہ کے اللہ تعالٰی نے تکلیف کو اپنی حیثیت میں ایک علیحدہ وجود برعکس خدا کی الگ ذات پر یقین رکھتے رہے ہیں جو کے طور پر نہیں بلکہ لذت اور آرام کے ایک ناگزیر خالق ہے 24 سلسلہ ہائے تصوف۔پشته سپر ورود قادریہ 23۔23۔23۔23۔۔۔23۔جزو کے طور پر پیدا کیا ہے 158 تکلیف اور خوشی از خود اعصابی نظام تخلیق نہیں کر سکتے 168 رنج اور تکلیف کے بغیر خوشی اور مسرت کا بھی کوئی لطف نہیں رہتا 159 زندگی اور تکلیف۔160۔۔۔۔۔صوفی صوفی ازم۔صوفی فرقے صوفياء 4, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 129۔۔۔۔۔۔22۔24, 25۔۔۔5, 22, 23, 24, 25, 26, 42 سقراط نے اپنی اس تکلیف کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی اور ملازم سے کہا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور دو تین بارز ہر پلانے کے لئے تیار رہے۔85 شعور جتنا کم ترقی یافتہ ہوگا اتنا ہی تکلیف کا احساس بھی کم