الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 42
42 فلسفة یورپ سکے کہ یہ فلسفہ در اصل افلاطون کے نظریہ تصوریت ہی کا تسلسل تھا۔اگر ہم ہیگل کو صحیح طور پر سمجھ سکے ہیں تو واقعہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک subjectivism یعنی موضوعیت، معروضی حقائق کا جز ولا ینفک ہے۔مطلب اس کا یہ ہے کہ ہیگل نے معروضی حقائق کا یکسر انکار نہیں کیا البتہ زور اس نے تصور کی فوقیت پر دیا۔اسلامی مکاتب فکر میں موضوعیت پسند صوفیا کا اپنا ایک جدا رنگ ہے۔وہ موضوعیت کو ان بلندیوں تک لے گئے جو یورپین فلسفیوں کے خواب و خیال میں بھی نہ آسکیں اگر چہ ان صوفیاء پر مجذوبیت کا الزام بھی لگایا جاسکتا ہے۔رہا یہ سوال کہ کیا الہام الہی انسانی علم کا مبدء و ماخذ قرار پاسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی بھی دور کے مغربی فلسفی کے ہاں اس بحث کا سراغ نہیں ملتا۔ہستی باری تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوں میں سے ڈیکارٹ اپنے اس موقف پر مضبوطی سے قائم رہا کہ عقل کو ایمان پر مقدم رکھنا چاہئے۔وہ اللہ تعالیٰ پر اس لئے یقین رکھتا تھا کہ اس کی عقل اس کے ایمان کی موید تھی۔لہذا اس کے فلسفہ میں کوئی تضاد نہیں تھا۔والٹیر (Voltaire) اور تھامس پین (Thomas Paine) کا یہ دعوی ہے کہ انسانی تہذیب کے ارتقا میں عقل نے ایمان کی نسبت زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔مابعد الطبیعیاتی فلسفہ میں مادی دنیا سے ماورا کسی خیالی وجود کی اہمیت تو موضوع بحث بنی رہی لیکن الہام الہی کے مسئلہ کا کبھی بھی سنجیدگی سے مطالعہ نہیں کیا گیا۔اس دور کے لوگوں کی فلسفہ میں دلچسپی کے باوجود ایمان اور عقل کی خصوصیات کا موازنہ کرتے ہوئے ان لوگوں نے بوجوہ اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے رکھی کہ الہام الہی نے بنی نوع انسان کو علم و معرفت کی طرف رہنمائی میں کیا کردار ادا کیا ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ ان کی دلچسپی محض نظری رنگ میں اس امر تک ہی محدود ہو کر رہ گئی کہ آیا خدا تعالیٰ ہے یا نہیں؟ لیکن کائنات میں خدا تعالیٰ کی ہستی کی طرف رہنمائی کرنے والے شواہد کیلئے کبھی کوئی جستجو نہیں کی گئی۔الہام الہی کی صداقت کو کما حقہ کبھی سنجیدگی سے نہیں پر کھا گیا۔حالانکہ اس کے بالمقابل آجکل تو یہ حال ہے کہ غیر ارضی مخلوق کے مزعومہ پیغامات کے سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں تک کو بھی نہایت