الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 40

40 فلسفة یورپ بنیاد پر خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار کر دیں جن میں روسو ( Rousseau) اور نیٹشے (Nietzsche) قابل ذکر ہیں۔نیٹشے (Nietzsche) نے تو اپنے ڈرامائی انداز میں گویا خدا تعالیٰ کو مردہ ہی قرار دے دیا۔روسونے الہامی مذاہب کی جگہ ایک نئے مذہب کی تشکیل ضروری کبھی اور ایک ایسے مذہب کا خیال ظاہر کیا جو انسانی فطرت اور تجربات پر مبنی ہو۔اس کے نزدیک انسانی ذہن کو بذات خود ایک ضابطہ حیات ترتیب دینا چاہئے۔روسو شاید پہلا یورپی فلسفی تھا جس نے ہر اس فلسفہ کی مخالفت کی جس کا خدا پر ایمان کے ساتھ کوئی تعلق ہو۔یہ وہ دور تھا جب مذہب عقلیت پسندی کی تحریک سے شعوری طور پر شدید متاثر ہو رہا تھا۔ان فلسفیوں کے بعد مل (Mill) اور سیجک (Sidgwick) جیسے افادیت پسند آئے۔وہ بنیادی طور پر افادیت کے قائل تھے۔یعنی جس چیز میں کسی کا مفاد ہو اسے اس چیز تک آزادانہ رسائی ہونی چاہئے۔لیکن خود غرضی اور ایثار میں ٹکراؤ کی صورت میں انہوں نے ثالثی کے لئے عقل کی طرف رجوع کرنے کی نصیحت کی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لذت کے حصول میں جب انتہائی خود غرضی اور بے لوث قربانی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو ان کے درمیان فیصلہ عقل کو کرنا چاہئے۔بلا شبہ یہ فلسفہ لفظوں کا طلسم ہے۔لذات کے پیچھے بھاگنے والوں کو خود غرضی چھوڑ کر اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کیلئے (Bentham) ، مل (Mill) اور حج وک (Sidgwick) کے مشورہ کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ایسے لوگوں کے نزدیک egoism اور altruism یعنی خود غرضی اور ایثار کے درمیان انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نفسانی خواہشات کے حصول کے لئے کون عقل کو ثالث بنائے گا؟ شہوانی اور نفسانی خواہشات سے مغلوب شخص کسی مشورہ کی ضرورت محسوس نہیں کیا کرتا۔وہ اپنے نفع نقصان سے آگاہ ہونے کے باوجود اس راستہ پر چل نکلتا ہے۔Utilitarians یعنی افادیت پسندوں کے بعد فلسفیوں کی ایک ایسی نسل ابھری جنہوں نے یورپی فلسفہ کی تاریخ پر ایک گہرا نقش چھوڑا۔لاک (Locke)، بر کلے (Berkeley) اور ہیوم (Hume) جیسے Empiricists یعنی مشاہدہ پسند اس تحریک کے سرخیل قرار پائے۔فلسفیوں کی